کسر صلیب

by Other Authors

Page 423 of 443

کسر صلیب — Page 423

۴۲۳ (4) ہی صلیب کا حادثہ ان کو پیش آیا تھا کسی اور سقطہ یا ضریبہ کا واقعہ نہیں ہوا۔پس بلا شبہ وہ مرہم اپنی زخموں کے لئے تھی۔اس میں شک نہیں کہ حضرت عیسی علیہ اسلام صلیب سے زندہ بچ گئے اور مرہم کے استعمال سے شفا پائی۔اے (۵) مریم حوار مین جس کا دوسرا نام مرسم عیلی بھی ہے۔یہ مرتسم نہایت مبارک مرہم ہے جو زخموں اور جراحتوں اور نیز زخموں کے نشان محروم کرنے کے لئے نہایت ناقع ہے طبیبلوں کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت عیسی کے لئے تیار کی تھی یعنی جبکہ حضرت عیسی علی السلام یہود علیہم العنت کے نتیجہمیں گرفتار ہو گئے اور یہودیوں نے چاہا حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچے کہ قتل کریں تو انہوں نے گرفتار کر کے صلیب پر کھینچنے کی کاروائی شروع کی کر مگر خدا تعالیٰ نے یہود کے بد ارادہ سے حضرت عیسی کو بچالیا کچھ خفیف سے زخم بدن پر لگ گئے سودہ اس عجیب و غریب مرہم کے چند روز استعمال کرنے سے بالکل دور ہو گئے یہانتک کہ نشان بھی جو دوبارہ گرفتاری کے لئے کھلی کھلی علامتیں تھیں بالکل مٹ گئے۔" انس مرہم کی تعریف میں اس قدر یکھنا کافی ہے کہ مسیح تو بیماروں کو اچھا کرتا تھا مگر اس مریم نے میچ کو اچھا کیا۔عیسائیوں اور نیم عیسائیوں کومعلوم ہو کہ یہ مرسم معد سی دی و تیمیہ کے طب کی ہزار ہا کتابوں میں موجود ہے اور اس مرہم کا ذکر کرنے والے نہ صرف مسلمان طبیب ہیں بلکہ مسلمان ، مجوسی ، عیسائی سب اس میں شامل ہیں۔اگر چاہیں تو ہم ہزار کتاب سے زیادہ اس کا حوالہ دے سکتے ہیں اور کئی کتابیں حضرت مسیح کے زمانہ کے قریب قریب کی ہیں اور سب اس پر اتفاق رکھتی ہیں کہ یہ مرام حواریوں نے حضرت مسیح کے لئے یعنی ان کے زخموں کے لئے تیار کی تھی اسے یہ مرہم قطعی طور پر ظاہر کرتی ہے کہ در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام صلیبی موت سے بچائے گئے تھے کیونکہ اس مرہم کا تذکرہ صرف اہل اسلام کی ہی کتابوں میں نہیں کیا گیا۔بلکہ قدیم سے عیسائی۔یہودی - مجوسی اور اطباء السلام اپنی اپنی کتابوں میں ذکر کرتے آئے ہیں اور نیز یہ بھی لکھتے آئے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے یہ مرہم تیانہ کی گئی تھی۔حسن اتفاق سے یہ سب کتابیں موجود ہیں اور اکثر چھپ چکی ہیں۔اس مرہم کو (4) : تحفہ گولرویه ها - جلد : ۱۷ : که : ست بچن حاشیه ۱۶ جلد ۱۰ : -:- ے: ست بچن حاشیه ۱۶۴ جلد ۱۰ : 21