کسر صلیب — Page 408
اور وہ خدا کا دشمن اور خدا اس کا دشمن ہو جائے اور شیطان کی طرح کا اندہ درگاہ اپنی ہو کر خدا کا سرکش ہو جائے تو کیا ہم یہ مفہوم حضرت عیسی کی نسبت تجویز کر سکتے ہیں؟ ہرگزنہ نہیں اور کیا کوئی عیسائی یہ گستاخی کر سکتا ہے کہ صلیب پانے کے بعد حضرت عیسی خدا سے برگشتہ ہو گئے تھے اور شیطان سے تعلقات پیدا کر لئے تھے۔جیسے دنیا پیدا ہوئی ہے لعنت کا یہی مفہوم قرار دیا گیا۔جس پر تمام قوموں کا اتفاق ہے مگر افسوس عیسائیوں نے بھی اس مفہوم پر غور نہیں کی ورثہ ہزارہ بیزاری سے اس مذہب کو ترک کرتے “ لے (۲) «صلیب کی موت سے بچانا اس کو اسلئے بھی ضروری تھا کہ مقدس کتاب میں لکھا ہے کہ جو کوئی کاٹھ پر لٹکایا گیا سو لعنتی ہے اور لعنت کا ایک ایسا مفہوم ہے کہ جو عیسی مسیح جیسے برگزیدہ ایسا پر ایک دم کے لئے تجویز کرنا سخت ظلم اور نا انصافی ہے کیونکہ بالاتفاق تمام اہل زبان لعنت کا مفہوم دل سے تعلق رکھتا ہے اور اس حالت میں کسی کو ملعون کہا جائے گا جبکہ حقیقت میں اسکا دل خدا سے برگشتہ ہو کر سیاہ ہو جائے اور خدا کی رحمت سے بے نصیب اور خدا کی محبت سے بے بہرہ ہو کہ گمراہی کے زہر سے بھرا ہوا ہو اور خدا کی محبت اور معرفت کا نور ایک زندہ اس میں باقی نہ رہ ہے اور تمام تعلق مہر و وفا کا ٹوٹ جائے اور اس میں اور خدا میں باہم مخفض اور نفرت اور کہ بہت اور عداوت پیدا ہو جائے یہانتک کہ خُدا اس کا دشمن اور وہ خدا ا کا دشمن ہو جائے اور خدا اسی بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہو جائے۔غرض ہر ایک صفت میں شیطان کا وارث ہو جائے اور اسی وجہ سے بعین شیطان کا نام ہے۔اب ظاہر ہے کہ ملعون کا لفظ ایسا پلید اور ناپاک ہے کہ کسی طرح کسی راستبانہ پر جو کہ اپنے دل میں خدا کی محبت رکھتا ہے صادق نہیں آسکتا۔افسوس کہ عیسائیوں نے اس اعتقاد کے ایجاد کرنے کے وقت لعنت کے مفہوم پر غور نہیں کی در نہ مکن نہ تھا کہ وہ لوگ ایسا خراب لفظ مسیح جیسے براستیانہ کی نسبت استعمال کر سکتے۔کیا ہم کہ سکتے ہیں کہ مسیح پر کبھی ایسا نہ مانہ آیا تھا کادل اور کہ اس کا دل در حقیقت خدا سے برگشتہ اور خدا کا منکر اور خدا سے بیزار اور خدا کا دشمن ہو گیا تھا۔کیا ہم گمان کر سکتے ہیں کہ مسیح کے دل نے کبھی یہ محسوس کیا تھا کہ وہ اب خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن اور کفر اور انکار کی تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔پھر اگر مسیح کے دل پر کبھی ایسی حالت نہیں آئی بلکہ وہ ہمیشہ محبت اور معرفت کے نور سے بھرا رہا تو اسے دانشمند و ! یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کیونکر ہم کہ سکتے ہیں کہ مسیح کے دل پر نہ ایک لعنت بلکہ : ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم حاشیه ۲ - جلد ۲۱ ب ل