کسر صلیب

by Other Authors

Page 407 of 443

کسر صلیب — Page 407

۴۰۷ achievements appeared meager۔But that was not all, for he who loses his life shall find it۔” یعنی اگر اسی بات پر حضرت مسیح کی زندگی کا خاتمہ ہوا کہ وہ صلیب پر مر گئے ) تو یہ بات قرین قیاس نہیں کہ حضرت مسیح کا بعد کی صدیوں میں عقیدت و احترام کے ساتھ تذکرہ جاری رہے، کیونکہ اس وقت تک کی ان کی زندگی میں ان کے کارنامے بالکل معمولی نظر آتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ ان کی زندگی کا انجام نہ تھاکیونکہ وہ جو اپنی ز ندگی کھوتا ہے اس بات کو مان لے گا۔گویا عیسائی بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ۳۲ سالی کی عمر میں فوت ہونے سے حضرت عیسی علیہ السلام کا مشن نامکمل اور نا تمام رہتا ہے اور عقلی طور سے یہ ایک زبہ دست اعتراض ہے کہ کسی نبی کا مشن ناتمام رہے۔عیسائیوں کے پاس اس کا کوئی ٹھوس جواب نہیں ہے۔پس ماننا پڑتا ہے کہ ۳۲ سال کی عمر میں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا نظریہ باطل ہے۔چھبیسویں دلیل ایک اور عقلی دلیل مصلیبی موت کے رد میں یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے لئے وہ مقام اور وہ نتیجہ رفتہ تویہ نہیں کیا جا سکتا جو صلیب کے نتیجہ میں لازمی طور پر مصلوب پر وارد ہوتا ہے۔میری مراد لعنت سے طا ہے جو کسی صورت میں حضرت عیسی علیہ السلام کے حق میں تجویز نہیں کی جاسکتی۔حضرت علی علیہ السلام خدا کے ایک نبی تھے۔خدا کی نظر میں معزنہ اور مکرم تھے۔نیز قرآن مجید نے تو ان کو وجيها في الدنيا والآخرة قرار دیا ہے۔ایک طرف ان کا یہ مقام ہے دوسری طرف بائیبل کی سند سے جو مدعی نبوت صلیب دیا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے۔(ملاحظہ ہو استثناء ) اب اگر حضرت عیسی علیہ السّلام کو دعوی نبوت کے بعد مصلوب یقین کر لیا جائے تو ان کو نعوذ باللہ لعنتی اور ملعون بھی ماننا پڑتا ہے۔یہ امر حد درجہ قابل افسوس ہے کہ عیسائی حضرات واقعی اپنی جہالت سے ایسا یقین کرتے ہیں۔ہمارا موقف یہ ہے کہ کسی نبی اور خدا کے برگزیدہ کو لعنتی اور ملعون خیال کرنا انسانی شرافت سے اور اس نبی کے منصب سے بہت بعید ہے۔پس عقلاً یہ مانا پڑے گا کہ نہ حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب ہوئے اور نہ مصلوب ہونے کا لازمی نتیجہ یعنی لعنت ان پر وارد ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں :- (1) حضرت عیسی صلیب پر ہر گز نہیں مرے وہ نہ وہ نعوذ بالله۔۔۔لعنت کے مفہوم کے مصداق بنتے ہیں کیونکہ عون وہ ہوتا ہے جس کا دل شیطان کی طرح خدا سے برگشتہ ہو جائے The begining of Christianity p۔129۔3 2