کسر صلیب

by Other Authors

Page 400 of 443

کسر صلیب — Page 400

۴۰۰ " بابل راستبانہ کے خون سے بر ضیاہ کے بیٹے ذکریا کے خون تک جسے تم نے ہیکل اور قربان گاہ کے درمیان قتل کیا ئیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہ سب کچھ اس زمانہ کے لوگوں پر آوے گا"۔دیکھو متی باب ۲۳ آیت ۳۵ ، ۲۶ - اب ان آیات پر اگر نظر غور کرو تو واضح ہو گا کہ ان میں حضرت مسیح علیہ السلام نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ یہودیوں نے جس قدر نبیوں کے خون کئے ان کا سلسلہ ذکر یا نبی تک ختم ہوگیا اور بعد اس کی یہودی لوگ کسی نبی کے قتل کرنے کے لئے قدرت نہیں پائیں گے۔یہ ایک بڑی پیشگوئی ہے اور اس سے نہایت صفائی کے ساتھ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب کے ذریعہ سے قتل نہیں ہوئے بلکہ صلیب سے بچ کر نکل گئے اور آخر طبعی موت سے فوت ہوئے کیونکہ اگر یہ بات صحیح ہوتی کہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی ذکریا کی طرح یہودیوں کے ہاتھ سے قتل ہونے والے تھے تو ان آیات میں حضرت مسیح علیہ السلام ضرور اپنے قتل کئے جانے کی طرف بھی اشارہ کرتے لے بالمسوين دليل ایک اور دلیل حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیہ سے زندہ بچ جانے کی ان کا اپنا وہ قول ہے جوستی باب 19 میں درج ہے۔اس قول کو درج فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عیسی علیہ السلام کی صلیبی موت کی تردید کا استدلال فرمایا ہے۔حضور فرماتے ہیں :- " منجملہ ان انجیلی شہادتوں کے جو ہم کو لی ہیں انجیل متی کی وہ عبارت ہے جو ذیل میں کھی جاتی ہے، میں تم سے پہنچ کہتا ہوں کہ ان میں سے جو یہاں کھڑے ہیں بعضے ہیں کہ جب تک ابن آدم کو اپنی بادشاہت میں آتے نہ دیکھ لیں موت کا مزہ نہ چکھیں گے، دیکھو انجیل متی باب ۱۷ آیت ۲۸ - ایسا ہی انجیل یوحنا کی یہ عبارت ہے یسوع نے اسے کہا کہ اگرس چاہوں کہ جب تک میں آدمی وہ ریعنی یو جانواری، یہیں ٹھہر سے یعنی یہ اسلم میں۔دیکھو یوحنا باب ۲۱ آیت ۲۲ - یعنی اگر میں چاہوں تو یوجنا نہ سر سے جب تک میں دوبارہ آؤں۔ان آیات سے یکساں صفائی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے وعدہ کیا تھا کہ بعض لوگ اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک کہ وہ پھر واپس ہو اور ان زندہ رہنے والوں میں سے یونا کو بھی قرار دیا تھا سوضرور تھا کہ یہ وعدہ پورا ہوتا ہے کے مسیح ہندوستان میں صا جلد ۱۵ : : الضار