کسر صلیب — Page 399
۳۹۹ h جائیں۔پھر یہ بھی ہوا کہ یہودیوں نے مسیح کو غش میں دیکھ کر سمجھ لیا کہ فوت ہو گیا ہے۔اندھیرے اور بھو نچال اور گھبراہٹ کا وقت تھا۔گھروں کا بھی ان کو فکر پڑا کہ شاید انس بھونچال اور اندھیرے سے بچوں پر کیا گزرتی ہوگی اور یہ دہشت بھی دلوں پر غالب آئی کہ اگر یہ شخص کا ذب اور کافر تھا جیسا کہ ہم نے دل میں سمجھا ہے تو اس کے اس دُکھ دینے کے وقت ایسے ہولناک آثار کیوں ظاہر ہوئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئے۔لہذا ان کے دل بے قرار ہو کہ اس لائق نہ رہے کہ وہ سچ کو اچھی طرح دیکھتے کہ آیا مرگیا یا کیا حال ہے مگر در حقیقت یہ سب امور مسیح کے بچانے کے لئے خدائی تدبیریں تھیں۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے وَلكِن شُبه لَهُمْ یعنی یہود نے صیح کو جان سے مارا نہیں ہے بلکہ خدا نے ان کو شبہ میں ڈال دیا کہ گویا جان سے مار دیا ہے۔لہ ان مذکورہ بالا چار منتخب حوالہ جات سے یہ بات بصراحت ثابت ہو جاتی ہے کہ واقعات کی یہ مجموعی شہادت اور غیر معمولی اسباب کا اس کثرت سے اکٹھے ہو جانا محض حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب سے بچانے کے لئے تھا۔ایک حق بین نظر اس بات کو جان سکتی ہے کہ ان سب اسباب و عوامل کی وجہ سے حضرت مسیح علیہ السلام کو خداتعالی نے معجزانہ طور پر صلیب پر مرنے سے بچا لیا۔اکیسویں دلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت علی علیہ السلام کے صلیب پر فوت نہ ہونے کی ایک دلیل یہ بیان فرمائی ہے کہ خود حضرت عیسی علیہ السلام نے یہ بیان کیا ہے کہ گذشتہ زمانوں میں بعض قوموں کی طرف سے انبیاء کے قتل کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا وہ حضرت ذکر یا پچہ اگر تم ہو گیا ہے۔گویا ان کے بعد کوئی اور نبی اپنی قوم کے ہاتھوں قتل نہیں ہوا۔اور نہ کسی اور ذریعہ سے مارا گیا ہے۔پس اس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کی بھی تردید ہو جاتی ہے کیونکہ جب ذکر یا پر انبیاء کے اپنی قوم کے ہاتھوں مار سے جانے کے سلسلہ کا اخت تمام ہو گیا تو پھر ان کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کا صلیب پر مرنا کیسے مکن ہو سکتا ہے۔اس دلیل کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ بڑے معین اور واضح ہیں۔چنانچہ میں اس جگہ حضور ہی کے الفاظ میں اس دلیل کو بیان کر دیتا ہوں جضور نے فرمایا :- منجملہ انجیلی شہادتوں کے جو ہم کو ملی ہیں انجیل متی کی وہ آیت ہے جو ذیل میں لکھتا ہوں ہے : میسیح ہندوستان میں، حک ، جلد ۱۵: