کسر صلیب — Page 393
" i ۳۹۳ اگر کوئی یہ اشکال پیدا کر سے کہ مسیح تو انجیل میں کہتا ہے کہ ضرور ہے کہ میں مارا جاؤں اور تیسرے دن جی اُٹھوں تو بیان مذکورہ بالا یعنی مسیح کا صلہ ہے زندہ اُتر آنا - ناقل) کیونکہ اس کے مطابق ہو۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس موت سے حقیقی موت مراد نہیں ہے بلکہ مجازی موت مراد ہے۔یہ عام محاورہ ہے کہ جو شخص قریب مرگ ہو کہ پھر بچ جائے اسکی نسبت بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ نئے سرے سے زندہ ہوا مسیح پر جو یہ مصیبت آئی کہ وہ صلیب پر چڑھا یا گیا اور کیلیں اس کے اعضاء میں ٹھوکی گئیں جن سے وہ نشی کی حالت میں ہوگیا۔یہ مصیبت در حقیقت موت سے کچھ کم نہیں تھی اور عام طور پر یہ بول چال ہے کہ جو شخص ایسی مصیبت تک پہنچ کر بچ جائے اس کی نسبت یہی کہتے ہیں کہ وہ مر مر کہ بچا اور اگر وہ کہے کہ میں تو نئے سرے سے زندہ ہوا ہوں تو اس بات کو کچھ جھوٹ یا مبالغہ خیال نہیں کیا جاتا یا اے نیز فرمایا : " ایسے بڑے صدمہ کو جو مسیح پر وارد ہوا تھا موت کے ساتھ تعبیر کرنا خلاف محاور نہیں ہے۔ہر ایک قوم میں قریبا یہ محاورہ پایا جاتا ہے کہ جو شخص ایک مہلک صدمہ میں مبتلا ہو کہ پھر آخر بچ جائے اس کو کہا جاتا ہے کہ نئے سرے نہ ندہ ہوا اور کسی قوم اور کسی ملک کے محاورہ میں ایسی بول چال میں کچھ بھی تکلف نہیں ہے راسی تسلسل میں مزید فرمایا :- خود ان چار انجیلوں میں ایسے استعارات موجود ہیں کہ مردہ کو کہ دیا ہے کہ یہ سوتا ہے مرا نہیں۔تو اس حالت میں اگر غشی کی حالت میں مردہ کا لفظ بولا گیا تو کیا یہ بعید ہے ؟ " سے اسی طرح عیسائی یہ بھی کہتے ہیں کہ مسیح نے صلیب سے قبل یہ بھی کہا تھا کہ آج میں بہشت میں داخل ہو جاؤں گا۔یہ گویا صلیبی موت کی ایک دلیل ہے۔اس کا رد بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا نے ہے۔آپ فرماتے ہیں :- ور اگر یہ عذر پیش ہو کہ مسیح نے مصلوب ہونے کے وقت یہ بھی کہا تھا کہ آج میں بہشت میں داخل ہوں گا۔پس اس سے صفائی کے ساتھ مسیح کا فوت ہونا ثابت ہوتا ہے سو ازالہ اوہام حصہ اول ص - جلد ۳ سے مسیح ہندوستان ہمیں منٹ - جلد ۱۵ : : مسیح ہندوستان میں صلاح - جلد ۲۱ :