کسر صلیب

by Other Authors

Page 383 of 443

کسر صلیب — Page 383

۳۸۳ کر رہے تھے بلکہ یہود بھی تو اس باختہ تھے اور آثا یہ قہر دیکھ کر یہودیوں کے دل بھی کانپ یہودبھی حواس گئے تھے اور اس وقت وہ پہلے زمانہ کے آسمانی عذاب جو ان پر آتے رہے ان کی آنکھوں کے سامنے تھے۔اسلئے کسی یہودی کہ یہ جرأت نہ ہوئی کہ یہ کہے کہ ہم تو ضروریہ ہڈیاں توڑیں کو یہ گے اور ہم بانہ نہیں آئیں گے۔کیونکہ اس وقت رب السموات والارض نہایت غضب میں تھا۔اور جلال اپنی یہودیوں کے دلوں پر ایک رعبناک کام کر رہا تھا۔لہذا انہوں نے جن کے باپ داد سے ہمیشہ خدا تعالیٰ کے غضب کا تجربہ کر تے آئے تھے۔جب سخت اور سیاہ آندھی اور عذاب کے آثار دیکھے اور آسمان پر سے خوفناک آثار نظر آئے تو وہ سراسیمہ ہو کہ گھروں کی طرف بھاگے " اے پس اس سارہ سے بیان سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ خلاف قیاس اور خلاف معمول خاص واضح طور پر صرف حضرت مسیح علیہ اسلام کی ہڈیاں نہ توڑنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ صلیب کی تکلیف سے ہر گنہ ہر گنہ قوت نہیں ہوئے تھے۔یہ قرینہ بہت وزنی دلیل بن جاتا ہے جب ہم اس کو دیگر قرائن اور واقعات صلیب کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں۔سولهوين دليل صلیبی موت کی تردید میں ایک زیر دست استدلال یہ ہے کہ اس عقیدہ کے بارہ میں عیسائی حضرات میں بھی شدید اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔اکثر عیسائی تو حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کے قائل ہیں جبکہ بعض نے اس سے واضح طور پر انکار کیا ہے۔چنانچہ یہ نیا اس کی انجیل میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیوں کے اس اختلاف سے یہ استدلال فرمایا ہے کہ صلیبی عقیدہ کا عقیدہ متفق علیہ عقیدہ نہیں ہے بلکہ اس میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے اور اس بات کا امکان پیدا ہو جاتا ہے کہ شاید صلیبی موت کا خیال باطل ہی نہ ہو۔یہ احتمال انجیلی روایات کی قطعیت کو باطل قرار دیتا ہے کیونکہ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال۔پس اس بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نباس کی انجیل کی روایت کو صلیبی موت کے تو میں ایک دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں :- "حواریوں میں اس مقام میں اختلاف بھی ہے چنانچہ یہ نباس کی انجیل میں جس کو میں :- ایام الصلح ۱۳۳-۱۲۵- جلد ۱۴