کسر صلیب — Page 382
PAY اس مذکورہ بالا حوالہ سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا :- " ان آیات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کسی مصلوب کی زندگی کا خاتمہ کرنے کے لئے یہ دستور تھا کہ جو صلیب پر کھینچا گیا ہو اس کو کئی دن صلیب پر رکھتے تھے اور پھر اسکی ہڈیاں توڑتے تھے لیکن مسیح کی ہڈیاں دانستہ نہیں توڑیں گئیں اور وہ ضرور صیب پر سے ان دو چوپٹوں کی طرح زندہ اتارا گیا اسی وجہ سے پہلی چھید نے سے خون بھی نکلا۔مردہ کا خون جم جاتا ہے والے راس دلیل کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :- " یہ قریب قیاس نہیں کہ دونوں چور جو صیح کے ساتھ صلیب پر کھینچے گئے تھے وہ زندہ رہے مگر مسیح صرف دو گھنٹے تک مر گیا بلکہ یہ صرف ایک بہانہ تھا جو مسیح کو ہڈیاں توڑنے سے بچانے کے لئے بنایا گیا تھا۔سمجھدانہ آدمی کے لئے یہ ایک بڑی دلیل ہے کہ دونوں چور صلیب پر چور سے زندہ اتار سے گئے اور ہمیشہ معمولی تھا کہ صلیب پر سے لوگ زندہ اتار سے جاتے تھے اور صرف اس حالت میں مرتے تھے کہ ہڈیاں توڑی جائیں اور یا بھوک اور پیاس کی حالت میں چند روز صلیب پر رہ کر جان نکلتی تھی مگر ان دونوں ہاتھوں میں سے کوئی بات بھی۔مسیح کو پیش نہ آئی۔نہ وہ کئی دن صلیب پر بھوکا پیاسا رکھا گیا اور نہ اسکی ہڈیاں توڑی گئیں ہے نہ نیز فرمایا : ہمیشہ معمول تھا کہ وہ صلیب پر سے لوگ زندہ آبار سے جاتے تھے اور صرف اس حالت میں مرتے تھے کہ ہڈیاں توڑی جائیں۔۔۔۔۔چوروں کی ہڈیاں توڑ کر اسی وقت ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا گیا۔بات تو تب تھی کہ ان دونوں چوروں میں سے بھی کسی کی نسبت کہا جاتا کہ یہ سرچکا ہے اس کی ہڈیاں توڑنے کی ضرورت نہیں" سے اگر یہ سوال ہو کہ آخرکیوں مسیح کی ہڈیاں نہ توڑی گئیں تو اس کا جواب بھی حضور نے تحریر فرمایا ہے۔فرمایا : - دو چور جو ساتھ صلیب دیئے گئے تھے ان کی ہڈیاں توڑی گئیں لیکن سیح کی ہڈیاں نہیں توڑیں کیونکہ پیلاطوس کے سپاہیوں نے جن کو پوشیدہ طور پر سمجھایا گیا تھا کہ دیا کہ اب نہیں نہیں ہے اور یسوع مر چکا ہے مگر مجھے علوم ہوتا ہے کہ چونکہ راستبانہ کا قتل کرنا کچھ سہیل امر نہیں اسلئے اس وقت نہ صرف پیلاطوس کے سپاہی عیسوع کے بچانے کے لئے تدبیر ہیں س: مسیح ہندوستان میں منہ - جلدہ) ۱۵۰ مسیح ہندوستان میں منہ - جلد 1 : ؟ +