کسر صلیب

by Other Authors

Page 372 of 443

کسر صلیب — Page 372

۳۷۲ ان کے لئے یہ تقریب قائم کردی کہ دن کے اخیر حصے میں صلیب دینے کی تجویز ہوئی اور وہ جمعہ کا دن تھا اور صرف تھوڑا سا دن باقی تھا اور اگلے دن سبت اور یہودیوں کی عید مسیح تھی۔اور یہودیوں کے لئے یہ حرام اور قابل سزا جرم تھا کہ کسی کو بت یا سبت کی رات میں مصیب پر رہنے دیں اور سلمانوں کی طرح یہودی بھی قمری حساب رکھتے تھے اور رات دن پر مقدم مجھی جاتی تھی بس ایک طرف تو یہ تقریب تھی کہ جو زمینی اسباب سے پیدا ہوئی اور دوسری طرف آسمانی اسباب خدا تعالی کی طرف سے یہ پیدا ہوئے کہ جب چھٹا گھنٹہ ہوا تو ایک ایسی آندھی آئی جس سے ساری زمین پر اندھیرا چھا گیا اوروہ اندھیرا تین گھنٹے برابر رہا۔دیکھو مرقس باب 16 آیت ۳۳۔یہ چھٹا گھنٹہ بارہ بجے کے بعد تھا یعنی وہ وقت جو شام کے قریب ہوتا ہے اب یہودیوں کو اس شدت اندھیرے میں یہ حکمہ پیڑی کہ مبادا سبت کی رات آجائے اور وہ سبت کے مجرم ہو کر تاوان کے لائق ٹھہریں اس لئے انہوں نے جلدی سے سیج کو اور اس کے ساتھ دو چوروں کو بھی صلیب پر سے اتار لیا " اے پھر فرمایا : ایک یہ سب تھا کہ آنجناب جمعہ کو قریب عصر کے صلیب پر چڑھائے گئے۔۔۔اس تدبیر میں پیلاطوس نے یہ سوچا تھا کہ غالباً اسی قلیل مدت کی وجہ سے جو صرف جمعہ کے ایک دو گھنٹے ہیں یسوع کی جان بچ جائے گی کیونکہ یہ نامکن تھا کہ جمعہ ختم ہونے کے بعد مسیح صلیب پر رہ سکتا۔وجہ یہ ہے کہ یہودیوں کی شریعیت کے رو سے یہ حرام تھا کہ کوئی شخص سبت یا سبت سے پہلی رات میں صلیب پر رہے ہے گویا حضرت مسیح علیہ السلام کو جلد صلیب سے اتاردینے کی وجہ یہ تھی کہ اگلا دن سبت کا تھا جس روزہ کسی مصلوب کا صلیب پر لٹکا رہنا یہودیوں کے نزدیک سخت گناہ تھا چنانچہ اس امر کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :- جس وقت حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے وہ جمعہ کا دن تھا اور قریباً دوپہر کے بعد تین بجے تھے اور یہودیوں کو سخت ممانعت تھی کہ کوئی مصلوب سبت کے کہ دن یا سیت کی رات جو جمعہ کے بعد آتی ہے صلیب پر شک نہ رہے۔اور یہودی قمری حساب کے پابند تھے۔اس لئے وہ سبت کی رات اس رات کو سمجھتے تھے کہ جب جمعہ کے دن کا خاتمہ مسیح ہندوستان میں ص۲-۲۳ جلد ۵ ۱ : : ایام الصلح ۱۲-۱۲۳ جلد ۱۴ :