کسر صلیب — Page 353
۳۵۳ باطل ہو جاتے ہیں۔پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر نہیں مرے تھے بلکہ وہ اپنی پیش گوئی کے مطابق زندہ زمین کے اندر ایک قبر نما جگہ میں داخل ہوئے ، تین دن اس کے اندر بے ہوشی کی حالت میں زندہ رہے اور پھر زندہ ہی زمین سے باہر آگئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دلیل کو جن الفاظ میں بیان فرمایا ہے وہ درج ذیل ہیں :- (1) پہلی دلیل یہ ہے کہ وہ (یعنی مسیح۔ناقل ) انجیل میں یونس نبی سے اپنی مشابہت بیان فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یونس کی طرح میں بھی قبر میں تین دن رہوں گا جیسا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں رہا تھا۔اب یہ مشابہت جو نبی کے مونہہ سے نکلی ہے قابل غور ہے کیونکہ اگر حضرت مسیح مردہ ہونے کی حالت میں قبر میں رکھے گئے تھے تو مُردہ اور زہندہ کی کیسی طرح مشابہت ہو سکتی ہے ؟ کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا رہا تھا ؟ سو یہ ایک بڑی دلیل اس بات پر ہے کہ ہر گز مسیح علیہ اسلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ وہ مردہ ہونے کی حالت میں قبر میں داخل ہوئے " سے (۳) خود حضرت مسیح علیہ السلام کی اس مثال کے موافق جو آپ نے یونس نبی کا تین دن پچھلی کے پیٹ میں رہنا اپنے انجام کار کا ایک نمونہ ٹھہرایا تھا۔آپ کو خدا تعالیٰ نے صلیب اور اس کے پھل سے جو لعنت ہے نجات بخشی۔اور آپ کی یہ دردناک آوانه که ایلی ایلی لما سبقتانی جناب اپنی میں سنی گئی۔یہ وہ مکمل کھل ثبوت ہے جس ہر ایک حق کے طالب کا دل بے اختیار خوشی کے ساتھ اچھل پڑے گا یا ہے (۳) میں اس کو نہیں مانتا کہ وہ امیج ناقل صلیب پر سرے ہوں بلکہ میری تحقیقات سے یہی ثابت ہوا ہے کہ وہ صلیب پر سے زندہ اتر آئے اور خود مسیح علیہ السلام بھی میری رائے سے متفق ہیں۔حضرت مسیح کا بڑا معجزہ یہی تھا کہ وہ صلیب پر نہیں مریں گے بلکہ یونس نبی کے نشان کا انہوں نے وعدہ کیا تھا اب اگر یہ مان لیا جائے جیسا کہ عیسائیوں نے غلطی سے مان رکھتا ہے کہ وہ صلیب پر مر گئے تھے تو پھر یہ نشان کہاں گیا اور یونس نبی کے ساتھ مماثلت کیسی ہوگی ؟ یہ کہنا کہ وہ قبر میں داخل ہو کر تین دن کے بعد نہ ندہ ہوئے بہت بے ہودہ بات ہے اس لئے کہ یونس تو نہ ندہ مچھلی کے پیٹ میں داخل ہوئے تھے نہ مرکہ۔یہ نبی کی ہے اویی ہے اگر ہم اس کی تاویل کرنے لگیں اصل بات یہی ہے کہ وہ صلیب پر سے زندہ اتنہ آئے۔ہر : ۱۲۵ ايام الصلح من جلد : ما ۱ ستاره قیصریه من جلد ۱۵ +