کسر صلیب — Page 339
۳۳۹ کونے کا میرا ہے لیکن کسی تجاہل عارفانہ سے لکھتا ہے کہ بعض مخالفوں نے اس پتھر کو ہلانے کی کوشش کی ہے۔حق تو یہ ہے کہ کا سر صلیب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن کو خدا نے اپنے حکم سے تم دید عیسائیت کے کام پر مامور فرمایا تھا، اس کونے کے سرے کے پتھر کو ہلانے کی ہی کوشش نہیں کی بلکہ آپ نے تو اس پتھر کو زمین سے اکھیڑ پھینکا ہے اور محقق عیسائی پادریوں نے تو اس شدید ترین حملہ کے نتائج کو محسوس کر کے ان کا اقرار بھی کر لیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بقول عیسائی پادری اس کونے کے سرے کے پتھر کو ہلانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس زور سے اس بنیاد کو اکھیڑا ہے کہ عیسائیت کی رُوح قفس عنصری سے پروانہ کر گئی ہے۔اور عالم عیسائیت میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔سے گرفته بلند بروز شتره چشم به چشمه آفتاب را چه گناه حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے تو بڑی وضاحت کے ساتھ فرما دیا ہے :- عیسائی مذہب کا تمام دارو مدار کفارہ پر ہے اور کفارہ کا تمام مدار صلیب پر۔اور جب صلیب ہی نہ رہی تو کفارہ نہ رہا اور جب کفارہ نہ رہا تو مذہب بنیاد سے گر گیا ہے الے اس اصل الاصول کو بیان کرنے کے بعد حضور نے صلیبی موت کے عقیدہ کی پر زور تردید فرمائی ہے اور عیسائیت کے اس باطل اور بعد کے خود تراشیدہ عقیدہ کی تردید میں دلائل کا انبارہ لگا دیا ہے صلیبی عقیدہ اور اس کی تردید کی اہمیت بیان کرنے کے بعد اب میں ان دلائل کو ترتیب والہ بیان کرتا ہوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب وغیرہ میں درج فرمائے ہیں۔واقعہ صلیب کی اصل حقیقت سے پہلے میں ایک حوالہ درج کرنا ضروری سمجھتا ہوں جس میں حضور نے یہ وضاحت فرمائی ہے کر صلیبی واقعہ کی اصل حقیقت کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے ان پر ظاہر فرمائی ہے۔یہ حوالہ گویا صلیبی واقعہ کی اصل حقیقت کا مبین ہے۔حضور فرماتے ہیں :- " جو حقیقت اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھولی ہے وہ یہ ہے کہ مسیح ابن مریم اپنے ہمعصر یہودیوں کے ہاتھوں سخت ستایا گیا جس طرح پہ را ستیانہ لوگ اپنے زمانہ میں نادان مخالفوں کے ہاتھوں ستائے جاتے ہیں اور آخر ان یہودیوں نے اپنی منصوبہ باندی اور شرارتوں سے یہ کوشش کی کہ کسی طرح پر آپ کا خاتمہ کر دیں اور آپ کو مصلوب کرا دیں۔بظاہر وہ اپنی ان ه : - تریاق القلوب ملا جلد ۱۵ بنت