کسر صلیب

by Other Authors

Page 323 of 443

کسر صلیب — Page 323

: : ۳۲۳ (4) تو معلوم ہوتا ہے کہ طرح طرح کے گناہوں میں مبتلا ہیں۔ایک دفعہ ایک پادری گندگی کی وجہ سے پکڑا گیا تو اس نے جواب دیا کہ کفارہ ہو چکا ہے۔اب کوئی گناہ نہیں۔اگر کفارہ گناہ کرنے سے نہیں بیچاتا تو اس کا کیا فائدہ ؟ چنانچہ اس کا جواب عیسائی کچھ نہیں دے سکتے یا لے خود نمیسائیوں نے اس امر کو قبول کیا ہے کہ عیسائیت کے ذریعہ بہت سی بد اخلاقیاں دنیا میں پھیلی ہیں کیونکہ جب انسان کو تعلیم ملے کہ اس کی گناہ کسی دوسرے کے ذمہ ہو چکے تو وہ گناہ کرنے پر دیر سو جاتا ہے اور گناہ نوع انسان کے لئے ایک خطرناک زہر ہے جو عیسائیت نے پھیلائی ہے اس صورت میں اس عقیدہ کا ضرر اور بھی بڑھ جاتا ہے۔لہ " عیسائی قوم کے واسطے کفارہ کی جو اہ کھلی ہے اسکی ذریعہ سے اس قوم میں کونسا گناہ ہے جو جرأت اور دلیری سے نہیں کیا جاتا ؟ اور وہ کونسی بدی ہے جس کسی کرنے سے کسی عیسائی کو کوئی روک پیدا ہو سکتی ہے ؟ اصل میں کفارہ کا عقیدہ ہی ان میں ایسا ہے کہ سارہ سے حرام ان کے واسطے حلال ہو گئے ورنہ کفارہ باطل ہوتا ہے کہ ملے J (۱۱) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک پادری زنا کے جرم میں پکڑا گیا۔عدالت میں جب اس سے سوال ہوا تو انھی بڑی دلیری اور جرأت سے کہا کہ کیا مسیح کا خون میرے واسطے کافی نہیں ہو چکا ؟ غرض ان کا کفارہ ہی تمام بدیوں کی جڑ ہے۔سے وندور ) " جب یہ کہا جہاد سے کہ انسان اعمال سے نجات نہیں پاسکتا تو یہ اصول انسان کی بہت اور رسمی کو بہت کم دے گا اور اس کو بالکل مایوس کر کے لیے دست و پا بنا دیگا۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کفارہ کا اصول انسانی قوی کی بھی بے حرمتی کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالے نے انسانی تقوی میں ایک ترقی کا مادہ رکھتا ہے لیکن کفارہ اس کو ترقی سے روکتا ہے۔۔۔کفارہ کا اعتقاد رکھنے والوں کے حالات آزادی اور بے قیدی کے جو دیکھتے ہیں تو یہ اسی اصول کی وجہ سے ہے کہ کتے اور کشتیوں کی طرح بدکاریاں ہوتی ہیں۔لنڈن کے ہائیڈ پارک میں علانیہ بدکاریاں ہوتی ہیں اور حرامی بچے پیدا ہوتے ہیں کا ہے "کمالات تو انسان کو مجاہدات سے حاصل ہوتے ہیں۔مگر جن کو سہل نسخہ مسیح کے خون کامل گیا وہ کیوں مجاہدات کریں گے۔اگر مسیح کے خون سے کامیابی ہے تو پھر ان کے لڑکے امتحان پاس رسور 146-144 من : ملفوظات جلد دہم - ۱۹ به سه : محفوظات جلد ہشتم من به سه : ملفوظات جلد دهم مش ۲۲ و ۳۱۹-۳۱۸ : ه: جلد اول