کسر صلیب — Page 319
٣١٩ (4 او ہے۔اسی مخلوق پرستی اور کفارہ کے پر غریب مسئلہ کا " لے گناہ سے روکنے کا اب تک یہ حال ہے کہ خاص یورپ کے محققین کے اقراروں سے یہ ثابت ہے کہ یورپ میں حرامکاری کا اس قدر نور ہے کہ خاص لنڈن میں ہر سال ہزاروں حرامی بچے پیدا ہوتے ہیں اور اس قدر گند سے واقعات یورپ کے شائع ہوتے ہیں کہ کہتے ننے کے لائق نہیں۔شراب خوری کا اس قدر زور ہے کہ اگر ان دوکانوں کو ایک خط سے میں باہم رکھ دیا جاہ سے تو شاید ایک مسافر کی دو منزل طے کرنے تک بھی وہ دوکانیں ختم نہ ہوں۔عبادات سے فراغت ہے اور دن رات سوا عیاشی اور دنیا پرستی کے کام نہیں۔پس اس تمام تحقیقات سے ثابت ہوا کہ میسور کے مصلوب ہونے سے اس پر ایمان لانے والے گناہ سے روک نہیں سکے بلکہ جیسا کہ بند ٹوٹنے سے ایک تیز دھارہ دریا کا پانی ارد گرد کے دیہات کو تباہ کر جاتا ہے ایسا ہی کفارہ پر ایمان لانیوالوں کا حال ہو رہا ہے کہ ان حوالوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کفارہ کے نتیجہ میں گناہ رکھنے یا کم ہونے کی بجائے اور بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔ان واقعات کی موجودگی میں یہ کہنا ہرگزہ غلط نہ ہوگا کہ کفارہ کا یہ اصول ایک باطل ، بیکارہ اور ہے جس کا ایک ذرہ بھر بھی فائدہ نہیں۔کیونکہ اس نجی گناہوں کو پہلے ہے فائدہ بلکہ نقصان دہ ام سے بھی زیادہ کہہ دیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کفارہ کے نتیجہ میں گناہوں کے بڑھ جانے کا ثبوت ایک اور رنگ میں بھی دیا ہے۔آپ نے یہ موانہ نہ فرمایا ہے کہ کفارہ سے پہلے گناہوں کی کیا حالت تھی اور کفارہ کے بعد کیا ہے آپ فرماتے ہیں :- ()) " اس نسخہ کا جو اثر ہوا ہے وہ تو بہت ہی خطرناک ہے۔جب تک یہ نسخہ ستعمال نہیں ہوا تھا اکثر لوگ نیک تھے اور تو یہ اور استغفار کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر چلنے کی کوشش کر تے تھے مگر جب یہ نسخہ گھڑا گیا کہ ساری دنیا کے گناہ خدا کے بیٹے کے پھانسی پانے کے ساتھ معاف ہو گئے تو اس کی بجائے اس کے کہ گناہ رکھتا ، گناہ کا ایک اور سیلاب جاری ہو گیا اور وہ بند جو اس سے پہلے خدا تعالیٰ کے خوف اور شریعت کا لگا ہوا تھا ٹوٹ گیا" کے جب تک مسیح نے خود کشی کا ارادہ نہیں کیا تھا تب تک عیسائیوں میں نیک چلیتی اور خدا پرستی ه ست بچن حاشیه ص ۱۶ جلد ۱۰ : اه : -:: ملفوظات جلد هفتم (AL ۱۵۲- ست بچن صلا ، ص۱۷ جلد ۱۰ : سه