کسر صلیب

by Other Authors

Page 298 of 443

کسر صلیب — Page 298

۲۹۰ وكان حليما رحيما كالابرار فمنع الاب من قهره وزيادته فما امتنع وما رجع من ارادته فقال الابن يا ابت ان كنت از معت تعذيب الناس و اهلاكهم بالفاس ولا تمتنع ولا تغفر ولا ترحم ولا تزد جرفها انا احمل اوزار هم واقبل ما ابار هم فاغفر لهم وافعل بي ما تريد ان كان قليلاً او يزيد فرض الاب على ان يصلب ابنه لاجل خطايا الناس ننجا المذنبين واخذ المعصوم وعاذ به بانواع البأس كالمذنبين هذا ما قالوا ولكن العجب من الاب الذى كان نشواناً أو فى السبات انه نسى عند صليب ابنه ماكتب في التوراة وقالى لا اهلك الا الذي عصاني ولا آخذ ا احدا مكان احد من العصاة فنكث العهد واخلف الوعد وترك العامين واخذا حدًا من المعصومين لعله ذهل قوله السابق من كبير السن وارزل العمر وكان من المعمرين " له ترجمہ :۔اور یہ خیال کر رہے ہیں کہ مسیح ان کے گناہوں کے لئے مصلوب اور ملعون ہوا اور ان کے بچانے کے لئے با خود اور معذب ہوا اور خلقت نے باپ کو اپنے گناہوں سے غصہ دلایا اور باپ سخت دل ماخوذ سريع الغضب تھا۔فلم اور کریم اس میں نہیں تھا ہنکہ غصہ سے آگ کی طرح بھڑ کا ہوا تھا۔سوا ن نے چاہا کہ۔ان خلقت کو دوزخ میں ڈالے سو بیٹا بدکاروں پر رحم کر کے شفاعت کے لئے کھڑا ہو گیا اور بیٹا حلیم اور رحیم اور نیک آدمی تھا۔پس اُس نے اپنے باپ کو قہر اور زیادت سے منع کیا مگر باپ اپنے ارادہ سے انہ نہ آیا سو بیٹے نے کہا اسے باپ اگر تیرا یہی ارادہ ہے کہ لوگوں کو ہلاک کر ے اور کسی طرح ان کو نہیں بخشتا اور رحم کرتا ہے سوئیں تمام لوگوں کے گناہ اپنی گردن پر لے لیتا ہوں سو ان کو تو بخش دے اور جو تو نے عذاب دینا ہے وہ مجھے عذاب دے سو اس کلمہ سے باپ غضبناک راضی ہو گیا اور اس کسی حکم سے بیٹیا پھانسی دیا گیا تا گناہگاروں کو چھوڑا ہے۔اور گناہگاروں کی طرح اس معصوم پر عذاب ہوا۔یہ وہ باتیں ہیں جو عیسائی کہتے ہیں لیکن باپ سے تعجب ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو پھانسی دینے کے وقت اپنے اس قول کو بھول گیا جو تو رات میں کہا تھا کہ میں اسی کو ہلاک کروں گا جو میرا گناہ کر سے اور میں ایک کی جگہ دوسرے کو نہیں پکڑوں گا۔سو اس نے عہد کو توڑا اور وعدہ کے خلاف کیا اور گناہگاروں کو چھوڑ دیا اور ایسے آدمی کو پکڑا جس پر کوئی گناہ نہیں تھا۔شاید وہ اپنا پہلا قول بباعث بڑھا ہے اور پیرانہ سالی کے بھول گیا کیونکہ عمر تھا۔- نور الحق حصہ اول طن - روحانی خزائن جلد :