کسر صلیب

by Other Authors

Page 279 of 443

کسر صلیب — Page 279

۲۷۹ کو بخشنے کا اختیار حاصل ہے۔خود حضرت مسیح کے متعلق بھی انجیل یہی بتاتی ہے اور پھر حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم بھی اپنے متبعین کو یہی ہے کہ تم گناہ بخشو۔اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب مخلوق رحم بلا مبادلہ کر سکتی ہے، گناہ بخش سکتی ہے تو ان کا خالق و مالک۔خدا کیوں ایسا نہیں کر سکتا ؟ پھر یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ انجیل میں لکھا ہے کہ تم خدا کے اخلاق کو اپناؤ۔اگر خدا کا یہ خلق نہیں کہ وہ گناہگاروں کے گناہ بخشتا ہے تو پھر ہندوں سے یہ کیسے توقع ہو سکتی ہے کہ وہ ایسا کریں کیا وہ خدا سے بڑھ کر با اخلاق ہوں گے۔اور اگر خدا رحم بلا مبادلہ نہیں کر سکتا تو میں نے کس بناء پر بندوں کو ایسا کرنے کی تعلیم دی جبکہ ایک طرف انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ خُدا کے اخلاق کو اپناؤ۔پس ثابت ہوتا ہے کہ جب ابن آدم گناه بخش سکتا ہے تو ان کا خدا تو ضرور ہی یہ صفت اپنے اندر رکھتا ہے۔گناہ معاف کرنے کا ہی دوسرا نام رحم بلا مبادلہ ہے۔ابن آدم کے گناہ بخشنے کے بارہ میں لکھا ہے :- ابن آدم کو زمین پر گناہوں کے معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے ؟ (متی ؟ ) اس دلیل کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- "حضرت مسیح بھی گناہ بخشنے کے لئے وصیت فرماتے ہیں کہ تم اپنے گناہگار کی خطا بخشو - ظاہر ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ جل شانہ کی صفات کے بر خلاف ہے کہ کسی کا گناہ بخشا جائے تو انسان کو ایسی تعلیم کیوں ملتی ہے بلکہ حضرت مسیح تو فرماتے ہیں کہ میں تجھے سائت مرتبہ تک نہیں کہتا بلکہ ستر کے سات مرتبہ تک یعنی اس اندانہہ تک کے گناہوں کو کہتا بلکہ بخشتا چلا جا۔اب دیکھئے کہ جب انسان کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ گویا تو بے انتہا سراب تک اپنے گناہگاروں کو بلا عوض بخشتا چلا جا اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بلا عوض ہرگزنہ نہ بخشوں گا تو پھر یہ تعلیم کیسی ہوئی۔حضرت مسیح نے تو ایک جگہ فرما دیا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے اخلاق کے موافق اپنے اخلاق کرو کیونکہ وہ بدوں اور نیکیوں پر اپنا سورج چاند چڑھانا ہے اور ہر ایک خط کا ر اور بے خط کو اپنی رحمتوں کی بارشوں سے متمتع کرتا ہے پھر جبکہ یہ حال ہے تو کیونکر ممکن تھا کہ حضرت مسیح ایسی تعلیم فرماتے جو اخلاق الہی کے مخالف ٹھہرتی ہے یعنی اگر خداتعالی کا یہی خلق ہے کہ جب تک سزا نہ دی جائے کوئی صورت رہائی کی نہیں تو پھر معافی کے لئے دوسروں کو کیوں نصیحت کرتا ہے ہے سے 4 رگم بلا مبادلہ کے حق میں ایک اور دلیل یہ ہے کہ بائیبل سے گناہوں کی معافی کا واضح طور پر ثبوت ملتا ہے سیکھا ہے :۔119-110 :- جنگ مقدسی ۱۵-۱۱۶ - جلد 4 : 1