کسر صلیب — Page 263
۲۹۳ + ہیں لیکن اگر غور کیا جائے تو مسیح علیہ السلام کی مزعومہ قربانی کا حقیقی اور مخلصانہ قربانی سے کوئی جوڑ نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دلیل کو بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے حضور نے تحریر فرمایا ہے کہ بنی نوع انسان کی خدمت کرنا اور ان کی خاطر تکالیف برداشت کرنا بے شک ایک عمدہ بات ہے لیکن قربانی کا یہ طریق کہ خود اپنے آپ کو ہلاک کر لینا اور محض اس موہوم امید بچہ کہ اس کی بنی نوع انسان کو فائدہ ہوگا ایک بہت ہی بے معنی اور عبث فعل ہے۔ایسی حرکت ایک نبی کی شان سے بعید ہے۔پس قربانی کا جو طریق کفارہ میں پیش کیا گیا ہے وہ کسی عقلمند کا کام نہیں کہلا سکتا بلکہ خود کشی کی ایک ایسی مذموم کوشش ہے جس کو کوئی عقلمند نہ پسند کر سکتا ہے نہ جائز قرار د سے سکتا ہے۔اسی بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے قربانی کے اس طریق کی پر زور تردید فرمائی ہے حضور فرما تھے ہیں :۔بے شک خدا کے بندوں اور اپنے بنی نوع کے لئے جان دنیا اور انسان کی بھلائی کے لئے دیکھ اٹھانا نہایت قابل تعریف امر ہے مگر یہ بات ہر گنہ قابل تعریف نہیں کہ ایک شخص ہے اصل و ہم پر بھروسہ کر کے کنویں میں کود پڑے کہ میرے مرنے سے لوگ نجات پا جائیں گے۔جان قربان کرنے کا یہ طریق تو بے شک صحیح ہے کہ خدا کے بندوں کی معقول طریقہ سے خدمت کریں اور ان کی بھلائی میں اپنے تمام انفاس خرچ کر دیں اور ان کے لئے الیسی کوشش کریں کہ گویا اس راہ میں جان دے دیں مگر یہ ہرگزہ صحیح نہیں ہے کہ اپنے سر یہ پتھر کہ دیں ماریں یا کنویں میں ڈوب مریں یا پھانسی لے لیں اور پھر تصور کریں کہ اس بے جا حرکت سے نوع انسان کو کچھ فائدہ پہنچے گا " کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر حضرت مسیح نے صلیب پر مرنا اپنی خوشی سے قبول کیا تھا تو یہ در حقیقت خود کشی ہے اور خود کشی خواہ دوسروں کی نجات کے خیال سے ہی کیوں نہ ہو ، ایک گناہ ہے۔پس اگر حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی خوشی اور مرضی سے اس صلیبی موت کو قبول کیا جیسا کہ عیسائی دعوی کرتے ہیں تو یہ ایک شرمناک فعل ہے۔ایک خود کشی ہے جس پر فخر کرنے کی بجائے اپنے سر ندامت سے جھب کا لینے چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- یسوع کا مصلوب ہونا اگر اپنی مرضی سے ہوتا تو خود کشی اور حرام کی موت تھی یہ سکھے پھر اسی سلسلہ میں فرماتے ہیں :- " دوسرے کی نجات کے لئے خود کشی کرنا خود گناہ ہے؟ سکه ه ست بچن یا جلد ۱۰ شه ست بیچین حاشیه ملت جلد ۱۰ به سه :- سیکچر لاہور من جلد ۲۰