کسر صلیب — Page 241
جس میں گناہ کرنے والے اور بطور کفارہ اپنے آپ کو پیش کرنے والے میں مغایرت ایک بنیادی کڑی ایک ہے اس کا تفصیلی جائزہ ہم آئندہ صفحات میں لیں گے۔اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ مذہب اسلام نے نجات کے لئے یہی اصول مقرر کیا ہے کہ انسان معبودیت تامہ کو اختیار کرے اور خدا کی پوری پوری اطاعت کر سے ہاں اگر اس سے کوئی غلطی ہو جائے تو وہ خود اس کا کفارہ ادا کر سے کسی دوسرے کے صلیب پر چڑھنے یا خون بہانے کی ضرورت نہیں۔عیسائیت کی رو سے نجات کا دارو مدابہ اس بات پر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب پر مرنے پر ایمان لایا جائے۔لیکن اسلام نے نجات کا یہ فلسفہ بیان کیا ہے۔کہ انسان اس اعلی مقام کو حاصل کرنے کے لئے خود اپنے نفس کی قربانی دے اور اپنے نفس کو خدا کی راہ میں قربانی کر دے جب انسان اس مقام پر آجاتا ہے تو اس لائق ہو جاتا ہے کہ خدا اس کو قبول کر سے اور حیات سرمدی کا وارث کر سے یہ نجات کا سچا فلسفہ ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے اور اس پہلو سے عیسائیت کے عقیدہ کفارہ کی پرز در تمدید کی ہے جو سیخ ناصری کے مصلوب ہونے سے اپنی نجات کو وابستہ کئے ہوئے ہیں۔اسلامی نظریہ نجات کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام عیسائیوں کو مخاطب فرماتے ہیں :- ا سے پیارو! یہ نہایت سچا اور آزمودہ فلسفہ ہے کہ انسان گناہ سے بچنے کے لئے معرفت نامہ کا محتاج ہے نہ کسی کفارہ کا ہم اس نجات کے لیئے نہ کسی خون کے محتاج ہیں اور نہ کسی صلیہ کے حاجتمند اور نہ کسی کفارہ کی نہیں ضرورت ہے بلکہ ہم صرف ایک قربانی کے محتاج ہیں جو اپنے نفس کی قربانی ہے۔لہ پھر آپ علیہ السلام اسی سلسلہ میں فرماتے ہیں :- دس سے بڑی نعمت یہ ہے کہ انسان کو اس بات کا یقین ہو جائے کہ اس کا خدا در حقیقت د ہے جو مجرم اور سرکش کو بے سزا نہیں چھوڑتا اور رجوع کرنے والے کی طرف رجوع کرتا ہے۔یہی یقین تمام گناہوں کا علاج ہے بجز اس کی دنیا میں نہ کوئی کفارہ ہے اورنہ کوئی خون ہے جو گناہ سے بچا لے " کے اسلامی نظریہ نجات اور اس کی فلاسفی بیان کرتے ہوئے فرمایا :- انسان کی فطرت میں قدیم سے ایک طرف ایک نہر رکھا گیا ہے جو گناہوں کی طرف رغبت دیتا ہے اور دوسری طرف قدیم سے انسانی فطرت میں اسی نہر کا تریاق رکھا ہے جو ل سیکرہ ہورسٹ جلد ۱۲ : نزدل اسبح من جلد ۱۸ به