کسر صلیب

by Other Authors

Page 205 of 443

کسر صلیب — Page 205

۲۰۵ کی زندگی کوئی غیر معمولی نہ ندگی نہ تھی۔نہ آپ کے کام نمایاں حیثیت رکھتے ہیں اور نہ آپ کا وجود حقیقت تو یہ ہے کہ ان حالات کو دیکھ کر کوئی عقلمند انسان حضرت سیح علیہ السلام کو خدا تسلیم نہیں کر سکتا۔کیونکہ عقل اس بات کو دور سے ہی دھکے دیتی ہے کہ انسانوں میں سے ایک انسان جو کوئی غیر معمولی خصوصیت یا برتری بھی نہیں رکھتا خدا قرار دیا جائے۔اور اس کے ساتھی جو اس قسم کے ہیں اس منصب سے محروم رہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوہیت مسیح کے رد میں ایک دلیل یہ بیان فرمائی ہے کہ انہ روئے فلسفہ حضرت مسیح کی خدائی کو تسلیم کرنا باطل ہے۔وجہ یہ ہے کہ اگر مسیح کے انجیلی حالات کو دینجند کو یہ فیصلہ دیکھا کیا جائے کہ ایسا شخص خدا ہوتا ہے تو عقل از روئے انصاف بطور کلیت یہ فیصلہ دے گی کہ اس قسم کے تمام اشخاص جو گزشتہ زمانوں میں گزرے یا آئندہ پیدا ہوں گے سب خدا ہیں۔لیکن ظاہر ہے کہ جو ایسا استدلال نہ صرف واقعاتی اعتبار سے غلط ہے بلکہ خود عیسائی صاحبان بھی ایسا تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ گزشتہ اور آئندہ زمانہ میں بہت سے خداؤں کا وجود ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس دلیل کو ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں :- در عقلی عقید سے سب کلیت کے رنگ میں ہوتے ہیں کیونکہ قواعد کلیہ سے انکا استخراج ہوتا ہے۔لہذا ایک فلاسفر اگر اس بات کو مان جائے کہ مسبوع خدا ہے تو پونکہ دلائل کا حکم کلیت کا فائدہ بخشتا ہے۔اسکو ماننا پڑتا ہے کہ پہلے بھی ایسے کر وڑ یا خدا گریس سے ہیں اور آگے بھی ہو سکتے ہیں اور یہ باطل ہے؟ اے نیز فرمایا : ایک طرف تو یہ پادری لوگ کا لجوں اور سکولوں میں فلسفہ اور منطق پڑھاتے ہیں اور دوسری طرف مسیح کو ابن اللہ اور اللہ مانتے ہیں اور تثلیث وغیرہ عقائد کے قائل ہیں جو سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ کیونکر اس کو فلاسفہ سے مطابق کرتے ہیں۔انگریزی منطق کی بناء تو منطق استقرائی ہی پر ہے پھر یہ کونسا استقراء ہے کہ یسوع ابن اللہ ہے۔کونسی شکل پیدا کرتے ہوں گے۔یہی ہوگا کہ مثلاً اسی قسم کے خواص جن لوگوں کے اندر ہوں وہ خدا یا خدا کے بیٹے ہوتے ہیں اور مسیح میں یہ خواص تھے۔پس وہ بھی خدا یا خدا کا بیٹا تھا۔اسی تو کت لازم آتی ہے جو محال مطلق ہے۔میں تو جب اس پر غور کرتا ہوں حیرت بڑھتی ہی جاتی ہے نہیں معلوم یہ لوگ کیوں نہیں سوچتے " ہے کتاب البرية من روحانی خزائن جلد ۱۳ - ملفوظات جلد اول ص :