کسر صلیب

by Other Authors

Page 200 of 443

کسر صلیب — Page 200

سه کا وقت ایک لغو اور بے ہودہ کام میں جو اس کے آقا اور مولی کی منشاء اور رضا کے خلاف تھا خواہ مخواہ ضائع کیا اور پھر ساری رات ردیا اور ایسے درد اور گرانہ کے الفاظ میں ڈھائی کہ لوہا بھی موم ہو مگر ایک بھی نہ سنی گئی۔واہ اچھا خدا تھا اسے (۲۸) جس قدر مذہب دنیا میں موجود ہیں سب کے سب بے برکت اور بے نور اور مردہ ہیں اور پاک تعلیم سے بے بہرہ محض ہیں۔۔۔۔۔۔عیسائیوں نے یہ نمونہ دیکھا یا کہ ایک عاجز بندہ کو خدا بنا دیا جیسی یہودیوں جیسی تباہ حال قوم سے جو ضربت عليهم الذلة والمسكنة کی مصداق تھی ماریں کھائیں۔اور آخر صلیب پر لٹکا دیا گیا اور ان کے عقیدہ کے موافق اور ملعون ہو کہ ایلی ایلی لما سبقتنی کہتے ہوئے جان دیدی۔غور تو کہ وکیا ایسی صفات والا کبھی خدا ہو سکتا ہے۔وہ تو خدا پرست بھی نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ وہ خود خدا ہو۔عیسائی دکھاتے ہیں کہ اسکی وہ ساری رات کی پر سوز دُعا محض بے اثر گئی۔اسے زیادہ بے برکتی کا ثبوت کیا ہو سکتا ہے۔اور اسے کیا توقع ہو سکتی ہے کہ وہ دوسروں کے لئے شفیع ہو سکتا ہے۔ہم کو یاد نہیں کہ دو گھنٹے بھی دُعا کے لئے ملے ہوں اور وہ دُعا قبول نہ ہوئی ہو۔ابن اللہ بلکہ خود خدا کا معاذ اللہ یہ حال ہے کہ ساری رات رو رو کر چلا نہ چلا کہ خود بھی دکھا کہ تارہ ہا اور دوسروں سے بھی دعا کراتا رہا اور کہتا رہا کہ اسے خدا تیرے آگے کوئی چیز ا نہوتی نہیں۔اگر ہو سکے تو یہ پیالہ ٹل جائے مگر وہ دعا قبول ہی نہیں ہوئی۔۔۔غرف ایک داغ ہو دو داغ ہوں جس پر بے شمار داغ ہوں کیا وہ خدا ہو سکتا ہے ؟ خدا تو کیا وہ عظیم الشان انسان بھی نہیں ہو سکتا ہے 1 (۲۹) ہم نے بار بار سمجھایا کہ عینی پرستی، بت پرستی اور رام پرستی سے کم نہیں اور مریم کا بیٹا کشتیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔کبھی یہ خیال آیا کہ وہ جو تمام عظمتوں کا مالک ہے اس پر انسان کی طرح کیونکر دکھ کی مار پڑ گئی کبھی یہ بھی سوچا کہ خالق نے اپنی ہی مخلوق سے کیونکر مار کھائی؟ کیا یہ سمجھ آسکتا ہے کہ بندہ ناچیز اپنے خدا کو کوڑسے ماریں اسکے منہ پر تھوکیں اس کو پکڑیں اس کو سولی دیں اور وہ مقابلہ سے عاجز رہ جائیں بلکہ : ملفوظات جلد پنجم مص : ملفوظات جلد دوم ص۳۲۲ +