کسر صلیب

by Other Authors

Page 199 of 443

کسر صلیب — Page 199

١٩٩ (۲۵) " خدا بھی اس کی تعلیم موجودہ کی رو سے وہ اصل خدا نہیں کہ جو ہمیشہ حدوث اور تولد اور تجسیم اور موت سے پاک تھا بلکہ انجیل کی تعلیم کی رو سے عیسائیوں کا خدا ایک نیا خدا ہے۔یا وہی خدا ہے کہ جس پر بدقسمتی سے بہت سی مصیبتیں آئیں اور آخری حال اس کا پہلے حال سے کہ جو اندلی اور قدیم تھا بالکل بدل گیا اور ہمیشہ قیوم اور غیر مبتدی رہ کر آخه کار تمام قید میں اس کی خاک میں مل گئی " 1 (FM) " پھر ایک اور پہلو سے بھی مسیح کی خدائی کی پڑتال کرنی چاہئیے۔۔۔۔۔جب ایک وقت قابلہ آگئے تو اس قدر دُعا کی جس کی کوئی حد نہیں مگر افسوس سے دیکھا جاتا ہے کہ وہ ساری رات کی دُعا عیسائیوں کے عقید سے کے مطابق بالکل تو ہو گئی۔اور اس کا کوئی بھی نتیجہ نہ ہوا۔اگر چہ خدا کی شان کے ہی یہ خلاف تھا کہ وہ دعا کر ہے۔چاہیئے تو یہ تھا کہ اپنی اقتداری قوت کا کوئی کرشمہ اس وقت دکھا دیتے جس کی بے چار سے یہود اقرار او تسلیم کے سوا کوئی چارہ ہی نہ دیکھتے مگر یہاں اللہ الہ ہو رہا ہے، اور اد خود گم است کرا را می کند کا معاملہ نظر آتا ہے۔دعائیں کرتے ہیں۔چیختے ہیں۔چلاتے ہیں مگر افسوس وہ دعائنی نہیں جاتی اور موت کا پیالہ جو صلیب کی لعنت کے زہر سے لبریز ہے نہیں ٹکتا۔اب کوئی اس خدا سے کیا پائے گا جو خود مانگتا ہے اور اسے دیا نہیں جاتا۔ایک طرف تو خود تعلیم دیتا ہے کہجو مانگو موملے گا۔دوسری طرف خود اپنی ناکامی اور نامرادی کا نمونہ دکھاتا ہے۔اب انصاف سے ہمیں کوئی بتائے کہ کسی پادری کو کیا تسکی اور اطمینان ایسے خدا ئے ناکام میں مل سکتا ہے ؟" سے ہے (۲۷۱ " یہ عیسائی بدنصیب اس امر کی طرف تو خیال نہیں کرتے کہ اول تو خدا اور اس کا مرنا یہ دونوں فقر سے آپس میں کیسے متضاد پڑسے معلوم ہوتے ہیں۔جب ایک کان میں یہ آوازہ ہی پڑتی ہے تو وہ چونک پڑتا ہے کہ ایں یہ کیا لفظ ہیں ؟ اور پھر ماسوا اس کے ایک ایسے شخص کو خدا بنائے بیٹھے ہیں کہ جس نے بخیال ان کے ساری رات یعنی چار پہر بر این احمدیہ حصه چهارم حاشیه در حاشیه ما بلدان سه ملفوظات جلد سوم ص ۱۲۵ 14