کسر صلیب

by Other Authors

Page 176 of 443

کسر صلیب — Page 176

144 قدرتی طور پر وہ رکھتے ہیں اس پر تمام جزئیات کا اس وقت تک قیاس کر لیں جب تک کہ ان کے مخالف کوئی اور جنائی ثابت ہو کہ پیش نہ ہوگا اے پھر اس کے بعد یہ استدلال فرمایا کہ اس آیت مذکورہ بان کی رو سے استقرائی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسیح بھی ایک رسول ہی تھے اور الوہیت مسیح کے باطل ہونے کی دلیل یہ ہے کہ جب وہ رسول ثابت ہو گئے تو خدا یا خدا کے بیٹے کس طرح ہوئے ؟ آپنے دلیل کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: قیاس استقرائی دنیا کے حقائق ثابت کرنے کے لئے اول درجہ کا مرتبہ رکھتا ہے۔تو اسی جہت سے اللہ جل شانہ نے سب سے پہلے قیاس استقرائی کو ہی پیش کیا ہے۔اور فرمایا قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ "} یعنی حضرت مسیح علیہ السّلام بے شک نبی تھے اور اللہ جل شانہ کے پیار سے رسول تھے مگر وہ انسان تھے۔تم نظر اٹھا کہ دیکھو کہ جب سے یہ سلسلہ تبلیغ اور کلام اپنی کے نازل کرنے کا شروع ہوا ہے ہمیشہ اور قدیم سے انسان ہی رسالت کا مرتبہ پا کر دنیا میں آتے رہے ہیں یا کبھی از اللہ تعالی کا بیٹا بھی آیا ہے۔اور خلت کا لفظ اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ جہاں تک تمہاری نظر تاریخی سلسلہ کو دیکھنے کے لئے وفا کر سکتی ہے اور گذشتہ لوگوں کا حال معلوم کر سکتے ہو خوب سوچو اور مجھو کہ کبھی یہ سلسلہ ٹوٹا بھی ہے۔کیا تم کوئی ایسی نظیر پیش کر سکتے ہو جسے ثابت ہو سکے کہ یہ امر ممکنات میں سے ہے۔پہلے بھی کبھی کبھی ہوتا ہی آیا ہے۔سو عقلمند آدمی اس جگہ ذرا ٹھہر کر اور اللہ جل شانہ کا خوف کر کے دل میں سوچے کہ حادثات کا سلسلہ اس بات کو چاہتا ہے کہ اسکی نظیر بھی کبھی کسی زمان میں پائی جا سے ہے اسی ضمن میں آپ نے تحریر فرمایا :- اللہ جل شانہ نے سب سے پہلے ابطال الوہیت کے لئے بھی دلیل استقرائی پیش کی ہے۔سے نیز فرمایا : JJ اسی بناء پر میں نے کہا تھا کہ اللہ جل شانہ کی یہ دلیل معقولی که قد خلت من قبله الرسل جو بطور استقراء کے بیان کی گئی ہے۔یہ ایک قطعی اور یقینی دلیل استقرائی ہے۔جب تک کہ اس دلیل کو توڑ کر نہ دکھلایا جائے ، اور یہ ثابت نہ کیا جائے کہ سه: جنگ مقدس منت ۳۲ روحانی خزائن جلد ۷ : -:- جنگ مقدس من روحانی خزائن جلد ا :