کسر صلیب — Page 138
ان حوالہ جات سے یہ بات تو پایہ ثبوت کو پہنچے جاتی ہے کہ یہود کو توحید کی تعلیم دی گئی تھی۔تثلیث کا کچھ ذکر موجود نہیں تھا۔نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تثلیث کا عقیدہ نہ صرف یہ کہ الہامی نہیں بلکہ یہود کی اصل تعلیم کے مخالف ہے ان دونوں وجوہ سے یہ خیال باطل ہے۔اگر عیسائی یہ عذر کریں کہ اصل میں تثلیث ہی کی تعلیم تھی لیکن یہود اس کو بھول گئے۔اور اس کی بجائے توحید کو اختیار کر لیا تو یہ ایک نہایت ہی بودا اور کمزور عذر ہے۔جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں یہود کو تعلیم یاد رکھتے اور لکھنے کے بارہ میں تاکیدی وصیت تھی لکھا ہے :- ؟ " یہ باتیں جن کا حکم آج میں تجھے دیتا ہوں تیرے دل پر نقش یہ ہیں " اے اور پھر اس تعلیم کی یاد دہانی کے لئے اس قوم میں پے در پنے نبی اور مصلحین آتے رہے پس قرائن اس بات کی پر زور تردید کر تے ہیں کہ یہود اس بنیادی تعلیم کو ہی فراموش کر دیتے۔جس کو تازہ رکھنے کے لئے اتنا زبردست انتظام تھا اور جو ان کی سنجات کا ذریعہ تھی۔اس ضمن میں مسیح پاک علیہ السلام کے حوالہ جات پیش خدمت ہیں۔آپ فرماتے ہیں :- (1) ظاہر ہے کہ اگر باپ بیٹے رُوح القدس کی تعلیم جو دوسرے لفظوں میں تثلیث کہلاتی ہے بنی اسرائیل کو دی جاتی تو کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ سب کے سب اس کو بھول جاتے۔جس تعلیم کو موسیٰ نے چھ سات لاکھ یہود کے سامنے بیان کیا تھا۔اور بار بار اس کے حفظ رکھنے کے لئے تاکید کی تھی اور پھر حسب زعم عیسائیاں متواتر خدا کے تمام نبی یسوع کے زمانہ تک اس تعلیم کو تازہ کرتے آئے۔ایسی تعلیم یہود کو کیونکر بھول سکتی تھی " سے اس تثلیث کے عقیدہ کو نہ صرف قرآن شریف یہ کرتا ہے بلکہ توریت بھی بند کرتی ہے۔کیونکہ وہ توریت جو موسی " کو دی گئی تھی۔اس میں اس تثلیث کا کچھ بھی ذکر نہیں۔اشارہ تک نہیں۔ورنہ ظاہر ہے کہ اگر تو ریت میں بھی ان خداؤں کی نسبت تعلیم ہوتی تو ہرگز ممکن نہ تھا کہ یہودی اس تعلیم کو فراموش کر دیتے۔کیونکہ اول تو یہودیوں کو توحید کی تعلیم کے یاد رکھنے کے لئے سخت تاکید کی گئی تھی۔یہاں تک کہ حکم تھا کہ ہر ے استثناء ہے سے : - انجام انتم حث روحانی خزائن جلد نمبر : : - جلد -