کسر صلیب — Page 121
چنانچہ آگ کو دیکھو۔شکل بھی مخروطی ہے اور وہ بھی کر دیت اپنے اندر رکھتی ہے۔اسے بھی توحید کا نور چمکتا ہے۔زمین کو لو اور انگریزوں سے بھی پوچھو کہ اسکی شکل کیسی ہے ؟ کہیں گے گول - الغرض طبعی تحقیقاتیں جہاں تک ہوتی چلی جائیں گی وہاں توحید ہی توحید نکلتی جائے گی۔لہ ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ توحید در حقیقت فطرت کی آواز کے عین مطابق ہے۔انسانی فطرت کی اس گواہی کو حضور نے تثلیث کے رد کے طور پر بھی بارہا بیان فرمایا ہے۔چنانچہ بعض عیسائی پادریوں نے اس امر کا اعتراف بھی کیا ہے کہ جہاں تک انسانی فطرت کا سوال ہے وہ تو گواہی دیتی ہے کہ خدا ایک ہے اور توحید برحق ہے۔چنانچہ ایک پادری کے اس اعتراف کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :- " پادری فنڈر ایک جگہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ اگر کوئی ایسا جزیرہ ہو جہاں عیسائیت کا وعظ نہیں پہنچا تو قیامت کے دن ان لوگوں سے کیا سوان ہوگا ؟ تب خود ہی جواب دیتا ہے کہ ان سے یہ سوال نہ ہوگا کہ تم میسوع پر اور اس کے کفارہ پر ایمان لائے تھے یا نہ لائے تھے۔بلکہ ان سے یہی سوال ہو گا کہ کیا تم خدا کو مانتے ہو جو اسلام کی صفات کا خدا واحد لاشریک ہے " سے " اسی ضمن میں فرمایا :- عقل اسلامی توحید تک ہی گواہی دیتی ہے اور اس لئے تمام عیسائی اس بات کو مانتے ہیں کہ اگر ایک گروہ ایسے کسی جزیرہ کا رہنے والا ہو کسی پاس نہ قرآن پہنچا ہو اور نہ انجیل اور نہ اسلامی توحید پہنچی ہو اور نہ نصرانیت کی تثلیث۔ان سے نہ اورنہ ہو اور - صرف اسلامی توحید کا مواخذہ ہوگا۔جیسا کہ پادری فنڈل نے میزان الحق میں یہ صراف اقرار کیا ہے۔پس لعنت ہے ایسے مذہب پر جب کی اصل الاصول کی سچائی پر عقل گواہی نہیں دیتی۔اگر انسان کے کانٹس اور خداداد عقل میں تثلیث کی ضرورت فطرتا مرکوز ہوتی تو ایسے لوگوں کو بھی ضرور تثلیث کا مواخذہ ہوتا۔جن تک تثلیث کا مسئلہ نہیں پہنچا۔حالانکہ عیسائی عقیدہ میں بالاتفاق یہ بات داخل ہے کہ جن لوگوں تک تثلیث کی تعلیم نہیں پہنچی ان سے صرف توحید کا مواخذہ ہوگا اس سے ظاہر ہے کہ :- ملفوظات جلد اول --- ۱۵- ملفوظات جلد ہشتم ۳۶۲۰۳۰ پر