کسر صلیب — Page 120
۱۲۰ گویا حضور نے یہ دلیل بیان فرمائی ہے کہ جب ہمارے پیش کردہ خُدا کے مقابل پر تمہارے معبودانِ باطلہ میں وہ صفات ہی نہیں پائی جاتیں جو خدا میں ہونی چاہئیں۔یعنی نہ وہ کسی کو نفع پہنچانے پر قادر ہیں اور نہ کسی نقصان سے محفوظ کر سکتے ہیں تو اسی ثابت ہوا کہ وہ حقیقی معنوں میں خدا نہیں ہیں۔پس معبودان باطلہ کا حقیقی خدا نہ ہونا دلیل ہے اس امر کی کہ خدا صرف ایک ہی ہے جس میں صحیح معنوں میں خدائی صفات پائی جاتی ہیں۔پس اس دلیل ائی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کائنات عالم کا خالق و مالک صرف ایک خدا ہے اور یہی تو حید ہے : پانچویں دلیل: توحید باری تعالٰی کے ثبوت کے طور پر چھوڑ نے پانچویں دلیل یہ بیان فرمائی ہے کہ توحید کا نقش انسانی فطرت میں پایا جاتا ہے۔اور ہر انسان کی فطرت سلیمہ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ خدا ایک ہے۔یہ ایک ایسا بدیہی ثبوت ہے جس کو ہر شخص محسوس کر سکتا ہے اور انفرادی طور پر اس کی تصدیق کر سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فطرت انسانی اور کر دیت اشیاء کو بطور دلیل پیش کرتے ہوئے فرمایا ہے :- ہم اسلام کے اصول توحید کو پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہی حقانی تعلیم ہے کیونکہ انسانی فطرت میں توحید کی تعلیم ہے اور نظارہ قدرت بھی اس پر شہادت دیتا ہے۔خدا تعالیٰ نے مخلوق کو متفرق پیدا کر کے وحدت ہی کی طرف کھینچا ہے۔جب سے معلوم ہوتا ہے کہ وحدت ہی منظور تھی۔پانی کا قطرہ اگر چھوڑ دیں تو وہ گول ہوگا چاند سورج سب اجرام فلکی گول ہیں۔اور کر دیت وحدت کو چاہتی ہے یہ سے پھر اسی ضمن میں حضور ایک اور موقع پر فرماتے ہیں :- بات اصل میں یہ ہے کہ انسان کی فطرت ہی میں الست برتبكم قالو ابلی نقش کیا گیا ہے۔اور تثلیث سے کوئی مناسبت جبلت انسانی اور تمام اشیائے عالم کو نہیں۔ایک قطرہ پانی کا دیکھو تو وہ گوں نظر آتا ہے مثلث کی شکل میں نظر نہیں آتا۔سی بھی صاف طور پہ یہی پایا جاتا ہے کہ توحید کا نقش قدرت کی ہر ایک چیز میں رکھا ہوا ہے۔خوب غور سے دیکھو کہ پانی کا قطرہ گول ہوتا ہے اور کروی شکل میں توحید ہی ہوتی ہے۔اس لئے کہ وہ جہت کو نہیں چاہتی اور مثلث شکل جہت کو چاہتی ہے له : ملفوظات جلد اول ۳۲ :