کسر صلیب — Page 428
۴۳۸ یہ وہم بالکل لغو اور بے ہودہ ہے کہ ممکن ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو نبوت کے زمانہ سے پہلے چوٹیں لگی ہوں یا نبوت کے زمانہ کی ہی چوٹیں ہوں مگر وہ صلیب کی نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے ہاتھ اور پیر زخمی ہو گئے ہوں۔ملا وہ کسی کو ٹھے پر سے گر گئے ہوں اور اس صدمہ کے لئے یہ مرہم طیارہ کی گئی ہو کیونکہ نبوت کے زمانہ سے پہلے حواری نہ تھے اور اس مرہم میں حواریوں کا ذکر ہے۔شلیخا کا لفظ جو یونانی ہے جو باراں کو کہتے ہیں ان کتابوں میں اب تک موجود ہے اور نیز نبوت کے زمانہ سے پہلے حضرت مسیح کی کوئی عظمت تسلیم نہیں کی گئی تھی تا اس کی یاد گار محفوظ رکھی جاتی اور نبوت کا زمانہ صرف ساڑھے تین بر س تھا اور اس مدت میں کوئی واقعہ ضربہ یا سقطہ کا بجز واقعہ صلیب کے حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت تاریخوں سے ثابت نہیں اور اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ ممکن ہے کہ ایسی چوٹیں کسی اور سب سے حضرت علی علیہ اسلام کو گئی ہوں تو یہ ثبوت اس کسی زندہ ہے۔کیونکہ ہم جس واقعہ کو پیش کرتے ہیں وہ ایک ایسا ثابت شدہ اور جانا ہوا واقعہ ہے کہ نہ یہود کو اسی انکار ہے اور نہ عیسائیوں کو یعنی صلیب کا واقعہ لیکن یہ خیال کہ کسی اورر سبد سے کوئی چوٹ حضرت مسیح کو لگی ہوگی کسی قوم کی تاریخ سے ثابت نہیں۔اس لئے ایسا خیال کرنا عمدا سچائی کی راہ کو چھوڑنا ہے۔یہ ثبوت ایسا نہیں ہے۔کہ اس قسم کے بے ہودہ عذرات سے رو ہو سکے اے الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مرسم عیسی کی دلیل کو پوری تحری اور وضاحت کے ساتھ پیش فرمایا ہے اور اس سلسلہ میں عیسائیوں کے سب شبہات کا ایسا مدلل جواب دیا ہے کہ ان کے لئے فرار کی کوئی راہ باقی نہیں ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ مرہم عیسی واقعی ایک معجزہ ہے جس نے مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں ان کے زخموں کو معجزانہ طور پر درست اور اچھا کر دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں صلیبی موت کی تردید میں ایسا قطعی اور یقینی ثبوت بہتا کیا ہے کہ عیسائیوں کے پاس اس کا کوئی معقول جواب نہیں ہے۔اس ثبوت کی قطعیت اور واضح حجت ہونے کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس ثبوت کو بڑی تحدی کے ساتھ پیش فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں : "اے محققوں کی روحو ! اس اعلیٰ ثبوت کی طرف دوڑو اور اسے منصف مزاجو ! اس ے میسج ہندوستان میں صت - جلد 16 :