کسر صلیب — Page 329
۳۲۹ 14 سکا۔حالانکہ ان کی بدکاریوں سے یسوع کے گوہر فطرت پر داغ لگتا تھا اور یہ وادیاں نانیاں لگا صرف ایک دو نہیں بلکہ تین ہیں۔چنانچہ یسوع کی ایک بزرگ نانی جو ایک طور سے دادی بھی تھی یعنی را حساب کیسی یعنی کنجری تھی (دیکھو شیوع ۲-۱ اور دوسری نانی جو ایک طور سے دادی بھی تھی اس کا نام تمر ہے یہ خانگی بد کا رعورتوں کی طرح حرام کا رتھی دیکھو پیدائش ۳۰ ، 19 سے ۲۰) اور ایک نائی میسوع صاحب کی جو ایک رشتہ سے دادی بھی تھی بنت سبع کے نام سے موسوم ہے یہ وہی پاک امن بھی دینی داؤد کے ساتھ رہنا کیا دیکھو سیموئیل (۱-۲) اب ظاہر ہے کہ ان وادیوں اور نانیوں کو شیوع کے کفارہ کی ضرور اطلاع دی گئی ہوگی اور اس پر ایمان لائی ہوں گی۔کیونکہ یہ تو عیسائیوں کا اصول ہے کہ پہلے نبیوں اور ان کی امت کو بھی یہی علی کفارہ کی دی گئی تھی اور اسی پر ایمان لا کر ان کی نجات ہوئی۔پس اگر میسوع کے مصلوب ہونے کا یہ اثر سمجھا جائے کہ اس کی معصومیت پر ایمان لا کہ گناہ سے انسان پیچ جاتا ہے تو چاہیے تھا کہ عیسوع کی وادیاں اور نانیاں نہ نا کا ریوں اور حرام کاریوں سے بچائی جاتیں مگر جس حالت تمام پیغمبر با وجودیکه بقول عیسائیاں میسوع کی خود کشی پر ایمان لائے تھے۔بدکاریوں سے نہ بچ سکے اور نہ یسوع کی دادیاں نانیاں بیچ سکیں تو اس سے صاف طور پر ثابت ہو گیا کہ یہ چھوٹا کفارہ کسی کو نفسانی جذبات سے بچا نہیں سکتا ؟ لے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیش فرمودہ اس دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارہ کا جو بھی مقصد قرار دیا جائے وہ خود عیسائی مسلمات کی رو سے باطل قرار پاتا ہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کفارہ کا مسئلہ ایک بے کار اور بے مقصد افسانہ ہے۔ظاہر ہے کہ اس صورت میں اس کے ابطال کے لئے کسی اور دلیل کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔بیکار افسانہ کو عقیدہ بنانے سے کیا حاصل؟ پینتو دلیل ك سیدنا حضرت یح موعود علیہ السلام نے کفارہ کے خلاف جو دلائل بیان فرمائے ہیں غالبا ان میں سے سب سے زیادہ اہم اور وزنی دلیل یہ ہے کہ حضرت مسیح غیر اسلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔کفارہ کی بنیا د اس امر یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت ہو گئے تھے اور اس وجہ سے و و گئے تھے اور اس وجہ سے وہ بنی آدم کے گناہوں کا کفارہ تے ہیں لیکن حضرت سے پاک علیہ السلام نے بڑی تحدی کے ساتھ اور تفصیلی دلائل کے بعد اپنے اس پیش کردہ انکشان کو پایہ ثبوت تک پہنچایا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے، یہ ایک ست بین ۱ - ۱۷۸ - جلد ۱ :