کسر صلیب — Page 276
بائیبل کے ان حوالوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تعلیم کفارہ کے اصول کے سراسر خلاف ہے کیونکہ کفارہ کی رو سے ایک معصوم اور بے گناہ کو گناہگاروں اور بدکاروں کی نجات کے لئے صلیب پر شکا یا گیا۔ظاہر ہے کہ کفارہ کا اصول بائیبل کی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں بلکہ صریح طور پر مخالف ہے۔پس معلوم ہوتا ہے کہ وہ سیمی کفارہ جس کو مسیحی آجکل پیش کرتے ہیں ہر گز اصل تعلیمات کا حصہ نہیں ہے بلکہ بعد کی ایجاد ہے جو اصل تعلیمات سے واضح طور پر متصادم ہے۔پس ثابت ہوا کہ کفارہ یہود کی اصل تعلیم کے خلاف ہے لہذا باطل ہے۔وہ عقیدہ ہی کیا ہو اجس کی تائید اس مذہب کی اپنی کتاب سے بھی نہ ہو سکے بلکہ اس پر مستزاد یہ کہ وہ عقیدہ اسی مذہب کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہو۔تير هوين دليل کفارہ کے عقیدہ کو پیش کرتے ہوئے عیسائی حضرات یہ کہا کرتے ہیں کہ خدا تعالٰی عادل اور رحیم ہے۔عدل کے اور مزا کا متقاضی ہے اور رحم معانی کا۔اس طرح وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ عدل اور رحیم دو ایسی صفتیں ہیں جو آپس میں ٹکراتی ہیں۔اگر خدا عدل کہ سے تو وہ بغیر سزا کے کسی مجرم کو چھوڑ نہیں سکتا۔پس رحم بلا مبادلہ جائز نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں اسی اصول کا خلاصہ یہ ہے :- رحم بلا مبادلہ میں عیسائی صاحبوں کا یہ اصول ہے کہ خدا تعالیٰ میں صفت عدل کی بھی ہے ! اور رحم کی بھی۔صفت عدل کی یہ چاہتی ہے کہ کسی گنا ہوگانہ کو بغیر سزا کے نہ چھوڑا جائے اور صفت رحم کی یہ چاہتی ہے کہ سنہ اسے بچایا جائے۔اور چونکہ عدل کی صفت رحم کرنے سے روکتی ہے اس لئے رحیم بلا مبادلہ جائزہ نہیں " سے پس عیسائی یہ کہتے ہیں کہ چونکہ خدا رحم بلا مبادا نہیں کرسکتا اس لیئے اسے بنی آدم کے گناہ معاف کرنے کے لئے مسیح کو مصلوب کر کے کفارہ بنایا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس اصول کی تردید فرمائی ہے اور ثابت فرمایا ہے کہ رحم بلا مبادلہ ہو سکتا ہے۔پس کفارہ کا مسئلہ باطل ہے۔اس سلسلہ میں سب سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کو ثابت فرمایا ہے کہ عدل اور رحم آپس میں ٹکراتے نہیں ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا عدل بھی ایک زرنگ کا رحم ہی ہے جو بنی نوع انسان پر کیا جاتا ہے خدا کا عدل یہ سمجھ لیا جائے کہ وہ کسی برائی پر صرف اسی قدر سزا دیتا ہے جتنی وہ برائی ہے حالانکہ اس کو قدرت حصل ہے کہ اس سے زیادہ سزا بھی دے دے۔پس خدا کا عدل کرنا بھی در اصل بنی آدم کے حق میں ایک رحم :- جنگ مقدس ۱۲۵ جلد :