کسر صلیب — Page 77
پر یقین رکھتے ہیں کہ اس نے ہم کو اس کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے اور میرے ہاتھ یہ مقدر ہے کہ میں دنیا کو اس عقیدہ سے رہائی دوں پس ہمار افیصلہ کرنے والا یہی امر ہوگا۔یہ باتیں لوگوں کی نظر میں عجیب ہیں مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ میرا خدا قادر ہے " اے ان حوالوں سے عیاں ہے کہ کامیر صلیب ، سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عیسائیت کے مقابل پر اپنی کامیابی کا ایسا کامل یقین تھا کہ جس کو صحیح طور پر لفظوں میں بیان کر نا بھی شاد ممکن نہ ہو۔ذرا اندازہ لگائیے جس شخص کے مبارک منہ سے یہ پریشرکت الفاظ نکلے ہوں اس کے عزم اور یقین کی کیفیت کیا ہو گی ؟ آپ فرماتے ہیں :- یقیناً یاد رکھو اور کان کھول کر سنو کہ میری روح ہلاک ہونیوالی روح نہیں اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔۔۔۔۔کیا خدا مجھے چھوڑ دے گا؟ کیا وہ مجھے ضائع کر دے گا ؟ کبھی نہیں ضائع کرے گا۔دشمن ذلیل ہوں گے اور حاسد شرمندہ اور خدا اپنے بندہ کو ہر میدان میں فتح دے گا یہ ہے الغرض اپنے مقصد میں کامیابی ، اسلام کی فتح و نصرت ، دشمنوں کی ہلاکت اور عیسائیت کی ناکامی پر یقین کامل حضور علیہ السلام کے علم کلام کادہ درخشندہ باب ہے جو اس خداداد علم کلام سے ہی خاص ہے۔اس یقین کا ہی نتیجہ تھا کہ آپ نے عیسائیوں کو ہر میدان میں للکارا اور ہر میدان میں پسپا کیا۔آپ نے عیسائی مذہب کے خلاف ایسا نہ یہ دوست اور سلسل جہاد کیا کہ محبت تمام کر دی۔یہ اتمام محبت اور فرض کی کامل ادائیگی بھی آپ کے علم کلام کے اعجاز کا ایک حصہ ہے۔آپ فرماتے ہیں :- عیسائیوں کی نسبت جو اتمام حجت کیا گیا وہ بھی دو قسم پر ہے ایک وہ کتابیں ہیں جو میں نے عیسائیوں کے خیالات کے رد میں تالیف کیں جیسا کہ براہین احمدیہ اور نور الحق اور کشف الغطاء وغیرہ۔دوسرے وہ نشان جو عیسائیوں پر حجت پوری کرنے کے لئے میں نے دکھلائے۔سے پس اس سارے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خداداد علم کلام کا ایک وصف یہ ہے کہ یہ ایک الجمبازی علم کلام ہے جسے مقابلہ کی دشمن میں ہر گنہ تاب نہیں یہ بھی دشمن اس لملفوظات جلد ششم ۲۲ : ۲ : انوار الاسلام طه (جلده) - تے تریاق القلوب منار جلد) - -