کسر صلیب — Page 427
ان سولر منتخب حوالہ جات کے مطالعہ کے بعد مرہم عیسی کی دلیل میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی لیکن بعض عیسائی حضرات عجیب قسم کے عذر پیش کرتے ہیں۔حضرت کا سر صلیب میں مود علی السلام نے عیسائیوں کے ہر عذبہ کو باطل ثابت فرما کہ ان پر اتمام حجت کر دی ہے۔فریم عیسی کے بارہ میں و یہ کہتے ہیں کہ یہ دلیل اس وجہ سے قطعی نہیں ہے کہ عین ممکن ہے کہ جن نہ خموں کے لئے یہ مرہم تیار کی گئی ہے وہ زخم حضرت مسیح کو حادثہ صلیہ سے قبل کسی وقت آئے ہوں۔اسی شبہ کا کسی قدر جواب گذشتہ حوالوں میں بھی آگیا ہے لیکن خاص اس شبہ کا ازالہ کرتے ہوئے بھی حضور نے اس دلیل کی قطعیت واضح فرمائی ہے۔حضور فرماتے ہیں: " اگر یہ شبہ پیش ہو کہ کن ہے کہ حضرت عیسی کو نبوت سے پہلے کہیں سے چوٹیں لگی ہوں یا گر گئے ہوں یا کسی نے مارا ہو اور حواریوں نے ان کے زخموں کے اورام اور قروح کی تکالیف کے لئے یہ نسخہ طیار کیا ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ نبوت سے پہلے حواریوں سے ان کا کچھ تعلق نہ تھا بلکہ حواریوں کو حواری کا لقب اسی وقت سے ملا کہ جب وہ لوگ حضرت عیسی کی نبوت کے بعد ان پر ایمان لائے اور ان کا ساتھ اختیارہ کیا اور پہلے تو ان کا نام مجھیٹے یا ماہی گیر تھا۔سو اسی صافت تم اور کیا قرینہ ہو گا کہ یہ مرہم اس نام کی طرف منسوب ہے جو جو اسلیوں کو حضرت مسیح کی نبوت کے بعد ملا اور پھر ایک اور قرینہ یہ ہے کہ اس مرہم کو مرہم رسل بھی کہتے ہیں کیونکہ حواری حضرت عیسی کے رسول تھے اور اگر یہ گمان ہو کہ مکن ہے کہ یہ چوٹیں حضرت مسیح کو نبوت کے بعد کسی اور حادثہ سے لگ گئی ہوں اور صلیب پر مرگئے ہوں جیسا کہ نصاریٰ کا زعم ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ یہ چوٹیں نبوت کے بعد لگی ہیں اور ظاہر ہے کہ اس ملک میں نبوت کا نہ مانہ صرف تین برس بلکہ اس سے بھی کم ہے پس اگر اس مختصر نہ مانہ میں بجز میں سکے چوٹوں کے کسی اور حادثہ سے بھی یسوع کو چوٹیں لگی تھیں اور ان چوٹوں کے لئے یہ مرہم طیارہ ہوئی تھی تو اس دعوئی کا بارہ ثبوت عیسائیوں کی گردن پر ہے۔یہ مریم حوار بین متواترات میں سے ہے اور متواثرات علوم حسیہ بدیہیہ کی طرح ہوتے ہیں جن سے انکارہ کرنا حماقت ہے اے پھر اسی سلسلہ میں آپ فرماتے ہیں :- 1 : ست بچن حاشیه ۱۶۲ - جلد ۱۰ :