کسر صلیب

by Other Authors

Page 392 of 443

کسر صلیب — Page 392

۳۹۲ زخم موجود رہے اور کیا ہم کہ سکتے ہیں کہ جلالی جسم بھی ملا پھر بھی زخموں سے رہائی نہ ہوئی یہ لے (۱۳) پھر یہ بھی معلوم ہے کہ یسوع نے صلیب سے نجات پاکر شاگردوں کو اپنے زخم دکھائے پس اگر اس کو دوبارہ زندگی جلالی طور پر حاصل ہوئی تھی تو اس پہلی زندگی کے زخم کیوں باقی رہ گئے کیا جلال میں کچھ کسر باقی رہ گئی تھی اور اگر کسر رہ گئی تھی تو کیونکہ امید رکھیں کہ دہ زخم پھر کبھی قیامت تک مل سکیں گے؟ لے ان سب حوالہ جات سے یہ بات پوری وضاحت سے ثابت ہو جاتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ ان کو دوبارہ زندگی نصیب ہوئی ہے کیونکہ فوت ہونے کی صورت میں ان سے یہ واقعات ظہور میں نہیں آسکتے تھے اور نیا جلالی حسم ملنے کی صورت میں اس پر زخموں کے نشان باقی نہیں رہ سکتے تھے۔پس یہ استدلال بہت واضح اور قطعی ہے لیکن عیسائی حضرات اس موقعہ پر انجیل کی ایک آیت پیش کر کے ان کی صلیبی موت کا استدلال کرنے کی کوشش موقعہ کرتے ہیں۔متی ہے میں لکھا ہے کہ مسیح نے کہا :- میں اپنے جی اُٹھنے کے بعد تم سے آگے جلیل کو جاؤں گا ہے اس بیان سے صلیب پر مرنے کا جو شبہ پیدا ہو سکتا ہے اس کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- ور مسیح کا یہ کلمہ کہ " اپنے جی اٹھنے کے بعد اسکی مرنے کے بعد جینا مراد نہیں ہو سکتا بلکہ چونکہ یہودیوں اور عام لوگوں کی نظر میں وہ صلیب پر مر چکا تھا اس لیئے مسیح نے پہلے سے ان کے آئندہ خیالات کے موافق یہ کلمہ استعمال کیا اور در حقیقت جس شخص کو صلیب پر کھینچ گیا اور اسکی پیروں اور ہاتھوں میں کیل ٹھو کے گئے یہانتک کہ وہ اس تکلیف سے غشی غشی میں ہو کر مردہ کی سی حالت میں ہو گیا اگر وہ ایسے صدمہ سے نجات پاکر پھر ہوش میں آجائے تو اس کا یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ میں پھر نہ ندہ ہو گیا اور بلاشبہ ا صدمہ عظیمہ کے بعد سیح کا بنچ جانا ایک معجزہ تھا معمولی بات نہیں تھی لیکن یہ درست نہیں ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ مسیح کی جان نکل گئی تھی " سے پھر آپ اسی سلسلہ میں فرماتے ہیں: مه به ضمیمه برا این احمدیہ حقہ پنجم حاشیه ۲۹ جلد : ه: - سراج منیر مت - جلد ۱۲ ۲۹-۲ ص : مسیح ہندوستان میں ملتا - جلد ۱۵: