کسر صلیب — Page 378
FZA A لئے یہودیوں نے مسیح کو جو حوالات میں تھا مانگا تو پل طوس نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح سیح کو چھوڑ دے کیونکہ وہ صاف دیکھتا تھا کہ مسیح بے گناہ ہے لیکن یہودیوں نے بہت اصرالہ کیا کہ اس کو صلیب سے صلیب ہے۔اور سب مولوی اور فقیہہ یہودیوں کے اکٹھے ہو کہ کہنے لگے کہ یہ کافر ہے اور توریت کے احکام سے لوگوں کو پھیرتا ہے۔بلاطوس اپنے دل میں خوب سمجھتا تھا کہ ان جنئی اختلافات کی وجہ سے ایک راستبانہ آدمی کو قتل کر دینا بے شک سخت گناہ ہے اسی وجہ سے وہ حیلے پیدا کرتا تھا کہ کسی طرح مسیح کو چھوڑ دیا جائے مگر حضرات مولوی کب بانہ آنیوالے تھے انہوں نے جھٹ ایک اور بات بنائی کہ یہ شخص یہ بھی کہتا ہے کہ یں یہودیوں کا بادشاہ ہوں اور درپردہ قیصر کی گورنمنٹ سے باغی ہے اگر تو نے اس کو چھوڑ دیا تو پھر یاد رکھے کہ ایک باغی کو تو نے پناہ دی۔تب پلا طوس ڈر گیا کیونکہ وہ قیصہ کا ما تحت۔تھا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ پھر بھی اس خون ناحق سے ڈرتا رہا یہ لے " پیلاطوس نے آخری فیصلہ کے لئے اجلاس کیا اور نا بکار مولویوں اور فقیہیوں کو بہتیرا سمجھایا کہ مسیح کے خون سے بانہ آجاؤ مگر وہ باز نہ آئے بلکہ چیخ چیخ کر بولنے لگے کہ ضرور صلیب دیا جائے دین سے پھر گیا ہے۔تب پیلا طوس نے پانی منگوا کہ ہاتھ دھوئے کہ دیکھوئیں اس کے خون سے ہاتھ دھوتا ہوں تب سب یہودیوں اور فقیہوں اور مولویوں نے کہا کہ اس کا خوبن ہم پر اور ہماری اولاد پر سے " یہ داؤ پیلاطوس کا چل گیا کہ میسوع جمعہ کی آخری گھڑی میں صلیب پر چڑھایا گیا۔اور نہ صرف یہی بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل نے چند اور اسباب بھی ایسے جمع کر دیئے جو پیلاطوس کے اختیار میں نہ تھے اور وہ یہ کہ عصر کے تنگ وقت میں تو یہودیوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھایا اور ساتھ ہی ایک سخت آندھی آئی جتنے دن کو رات کے مشابہ کر دیا۔اب یہودی ڈرتے کہ شاید شام ہو گئی کیونکہ یہودیوں کو سبت کے دن یا سبت کی رات کسی کو منیب پر رکھنے کی سخت ممانعت تھی اور یہودیوں کے مذہ کے رو سے دن سے پہلے جو رات آتی ہے این والے دن میں شمار کی جاتی ہے اسلئے جمعہ کے بعد جو رات تھی وہ سبت کی رات تھی لہذا یہودی اندھی کے پھیلنے کے وقت میں اس بات سے بہت گھیرائے کہ ایسا نہ ہو کہ سبت کی رات میں یہ شخص صلیب پر ہو اس لئے جلدی سے انہوں نے اتار لیا ہے ه سه: ازالہ اوہام حصہ اول ۲۹۲-۱۹۵ جلد۲ : ۵۳ : - ایام الصلح ص۱۳۲ جلد ۱۴ : وه