کسر صلیب — Page 377
اول تو مسیح کو مصلوب ہونا ایسے دن پر ڈال دیا کہ وہ جمعہ کا دن تھا اور صرف چند گھنٹے دن میں باقی تھے اور بڑے سبت کی رات قریب تھی اور پلا طوس خوب جانتا تھا کہ یہودی اپنی شریعیت کے حکموں کے موافق صرف شام کے وقت تک ہی صحیح کو صلیب پر رکھ سکتے ہیں اور پھر شام ہوتے ہی ان کا سدت ہے جس میں صلیب پر رکھنا رہا نہیں چنانچہ ایسا ہی ہوا اور سیح شام سے پہلے صلیب پر سے اتارا گیا ہے پیلاطوس کے بارہ میں فرمایا : پوشیدہ طور پر اتنی بہت بھی کی کہ مسیح کی جان کو صلیب سے بچایا جاد سے اور اس سعی میں وہ کامیاب بھی ہو گیا مگر بعد اس کی کہ مسیح صلیب پر چڑھایا گیا اور شدت درد سے ایک ایسی سخت بخشی میں آگیا کہ گویا وہ موت ہی تھی۔بہر حال پلا طوس رومی کی کوشش سے مسیح ابن مریم کی جان بچ گئی یہ سے (سم) یوسف نام یلاطوس کا ایک معزز دوست تھا جو اس نواح کا رئیس تھا اور مسیح کے پوشیدہ شاگردوں میں داخل تھا وہ میں وقت پر پہنچ گیا مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی بلا طوس سے اشارہ سے بلایا گیا تھا میسیج کو ایک لاش قرارد سے کہ اس کے سپرد کر دیا گیا کیونکہ وہ ایک بڑا آدمی تھا اور یہودی ایک ساتھ کچھ پر خاش نہیں کر سکتے تھے جب وہ پہنچا تو مسیج کو جو غش میں تھا ایک لاش قرار دیکر اس نے لیا اور اسی جگہ ایک وسیع مکان تھا جو اس زمانہ کی رسم پر قبر کے طور پر بنایا گیا تھا اور اس میں ایک کھڑکی بھی تھی اور ایسے موقع پر تھا جو یہودیوں کے تعلق سے الگ تھا اس جگہ پیلاطوس کے اشارہ سے مسیح کو رکھا گیا " سے (۵) " پیلاطوس جو اس ملک کا گورنر تھا معہ اپنی بیوی کے حضرت عیسی کا مرید تھا اور چاہتا تھا کہ اسے چھوڑ دے مگر جب زبر دست یہودیوں کے علماء نے جو قیصر کی طرف سے بباعث اپنی دنیا داری کے کچھ عزت رکھتے تھے اس کو یہ آہ کہ دھمکایا کہ اگر تو اس شخص کو سزا نہیں دے گا تو ہم قیصر کے حضور میں تیرے پر فریاد کریں گے۔تب وہ ڈر گیا کیونکہ بزدل تھا۔اپنی ارادت پر قائم نہ رہ سکا ہے (4) " انجیلوں میں لکھا ہے۔یہ واقعہ پیش آیا کہ جب پیلاطونس سے صلیب دینے کے : مینج ہندوستان میں من ۲ - ۲۸ - جلد ۱۵: سه کشتی نوح من جلد ۱۹ : : سے تذکرۃ الشهادتين من جلد ۲۰ : تھے :-