کسر صلیب — Page 376
مقدمہ کے فیصلہ کو معرض التوا میں ڈالتا گیا۔حتی کہ جمعہ آگیا اور جمعہ کی آخری گھڑیوں میں مسیح کو صلیب پر۔لٹکایا گیا۔یہ ساری تدبیر پیلاطوس کی تھی۔اس طرح حضرت مسیح علیہ السلام بہت ہی کم عرصہ صلیب کم پر رہ ہے کیونکہ اگلا روز سبت کا تھا اور اس کی احترام میں شام ہوتے ہی سب صلیب پر لٹکائے جانے والوں کو اتار لیا جاتا تھا۔اس کے علاوہ پیلا طوس نے ایک شخص کے لاش مانگنے پر بغر کسی تحقیق کے اس کو لاش دیدی یہ بھی بتایا ہے کہ یہ کوئی سوچی بھی سکیم تھی اور درپردہ پیلاطوس کے نسیح کے بچانے کا پورا پورا انتظام کر لیا تھا۔چنانچہ ایک سیمی لکھتے ہیں :- رومیوں کے درمیان یہ ایک اچھی رسم تھی کہ مجرموں کی لاشیں ان کے دوستوں کو اگر وہ درخواست کریں تو دیدی جایا کرتی تھیں اور اس وقت یسوع کی لاش کے لئے بھی ایک شخص دعویدار ہوا جس کو پیلاطوس نے بلا تامل لاش حوالہ کر دیا ہے الغرض پیلاطوس کا یہ سارا کردارہ اس بات پر زیر دست قرینہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ہر گنہ صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- "جو شخص صلیب پر کھینچا جاتا تھا وہ اسی دن اتار لیا جاتا تھا کیونکہ سبت کے دن صلیب پر رکھنا سخت گناہ اور موجب تاوان اور سزا تھا سو یہ داؤ پیلاطوسس کا چل گیا کہ یسوع جمعہ کی آخری گھڑی میں صلیب پر چڑھایا گیا " ہے (۲) " صریح معلوم ہوتا ہے کہ اندرونی طور پر کچھ سازش کی بات تھی پلا طوسس ایک خدا ترس اور نیک دل آدمی تھا۔کھلی کھلی رعایت سے قیصر سے ڈرتا تھا کیونکہ یہودی مسیح کو باغی ٹھہراتے تھے مگر وہ خوش قسمت تھا کہ اتنی مسیح کو دیکھا لیکن قیصر نے اس نعمت کو نہ پایا۔اس نے نہ صرف دیکھا بلکہ بہت رعایت کی اور اس کا ہرگز منشاء نہ تھا کہ مسیح صلیب پاوے۔چنانچہ انہیلوں کے دیکھنے سے صاف طور پر پایا جاتا ہے کہ پلا طوس نے کئی دفعہ ارادہ کیا کہ میچ کو چھوڑ دے مسیح لیکن یہودیوں نے کہا کہ اگر تو اس مرد ک چھوڑ دیتا ہے تو تو قیصر کا خیرخواہ نہیں اور یہ کہا کہ یہ اور باغی ہے اور خود بادشاہ بننا چاہتا ہے۔دیکھو یوحنا باب ۱۹ آیت ۱۲۔اور بلاطوس کی بیوی کی خواب اور بھی اس بات کی محرک ہوئی تھی کہ کسی طرح مسیح کو مصلوب ہونے سے بچایا جائے ورنہ ان کی اپنی تباہی ہے مگر چونکہ یہودی ایک شریر قوم تھی اور پیلاطوس پر قیصر کے حضور میں جبری کرنے کو بھی طیارہ تھے اسلئے پیلاطوس نے میسج کے چھڑانے میں حکمت عملی سے کام لیا۔: یسوع کی گرفتاری اور موت من : :- ایام الصلح ص۱۲۳ جلد ۶۱۴