کسر صلیب — Page 375
۳۷۵ اس بات کا قرینہ ہے کہ حضرت میسج کی اتنی جلدی موت ایک تعجب خیز امر تھا اور اس موقع پر اس بات کا حیرت کا اظہارہ کیا گیا کہ یہ شخص اتنے تھوڑے عرصہ میں کیسے مرگیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دلیل کو مندرجہ ذیل حوالہ میں بیان فرمایا ہے۔حضور نہ فرماتے ہیں :- ذر منجملہ ان شہادتوں سے جو انجیل سے ہم کو ملی ہیں پلاٹس کا وہ قول ہے جو انجیل مرقس میں لکھا ہے اور وہ یہ ہے۔اور جب کہ شام ہوئی اس لئے کہ تیاری کا دن تھا جو سبت سے پہلے ہوتا تھا یوسف ارمیا جو نامور مشیر اور وہ خود خدا کی بادشاہت کا منتظر تھا، آیا اور دلیری سے پلاٹس کے پاس جا کے میسوع کی لاش مانگی اور پلائنس نے متعجب ہو کر شیہ کیا کہ وہ لینی مسیح ایسا جلد مر گیا یہ دیکھو مرقس باب ۶ آیت ۴۲ سے نہ ہم تکیه اس امر سے حضور نے یہ استدلال فرمایا ہے کہ :- است ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عین صلیب کی گھڑی میں ہی عیسوع کے مرنے پر شبہ ہوا اور شبہ بھی ایسے شخص نے کیا جس کو اس بات کا تجربہ تھا کہ اس قدر مدت میں صلیب پر جان نکلتی ہے۔لہ پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر ہر گنہ فوت نہیں ہوئے۔تیر تقوین دلیل صلیبی موت کی تردید میں تیرھویں دلیل حاکم وقت پیلاطوس کا کردار ہے جس کا کسی قدرہ ذکر ضمناً گذشته صفحات میں بھی ہو چکا ہے۔اناجیل اور تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس وقت کا حاکم جس کی عدالت میں مسیح کا مقدمہ پیش تھا در پردہ مسیح کا معتقد تھا۔چنانچہ استھی کچھ اپنے اعتقاد کی وجہ سے اور کچھ اپنی بیوی کے خواب کی وجہ سے اس بات کی پوری پوری کوشش کی کہ کسی طرح مسیح کے خون سے بری الذمہ ہو سکے۔اس نے عدالت میں پانی منگوا کر ہاتھ دھوئے اور کہا کہ میں اس مسیح کو بے گناہ سمجھتا ہوں اور اس کے خون سے ہاتھ دھوتا ہوں۔پھر اس نے مسیح کو چھوڑنا چاہا لیکن یہود کے ڈرانے کی وجہ سے ایسا نہ کر سکا۔جب ہر طرف سے مجبور ہو گیا تو اس نے ایک اور تد ہی سوچی - مسیح ہندوستان میں ص ۲ جلد ۱۵: ایضاً