کسر صلیب

by Other Authors

Page 371 of 443

کسر صلیب — Page 371

۳۷۱ کیل ٹھونکنے کے بعد ایک دو دن تک کسی کی جان بخشی کا ارادہ ہو تو اسی قدر عذاب پر کفایت کر کے بڑیاں توڑنے سے پہلے اس کو زندہ اتار لیا جائے۔اور اگر بارہ نا ہی منظور ہوتا تھا تو کم سے کم تین دن تک صلیب پر کھینچا ہوا رہنے دیتے تھے اور پانی اور روٹی نزدیک نہ آنے دیتے تھے اور اسی طرح دھوپ میں تین دن یا اس سے زیادہ چھوڑ دیتے تھے اور پھر اس کے بعد اس کی ہڈیاں توڑتے تھے اور پھر آخر ان تمام عذابوں کے بعد وہ مر جاتا تھا" لے پس اس بات کے ثابت ہو جانے کے بعد کہ اس زمانہ کی صلیب پر شکنے والا انسان مسلسل بھوک اور پیاس کی اذیت سے آہستہ آہستہ کئی دنوں کے بعد برا کہتا تھا، حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے یہ استدلال فرمایا ہےکہ حضرت مسیح علیہ اسلام کے بارہ میں تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ وہ صرف چند گھنٹے صلیب پر رہے ہیں۔پس یہ قلیل عرصہ صلیب اور اس زمانہ کا طریق صلیب اس بات کی دلیل ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام دو تین گھنٹہ کے قلیل عرصہ میں ہر گنہ فوت نہیں ہو سکتے پس وہ صلیب پر نہیں مرے۔اس دلیل کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- " حضرت مسیح صلیب پر صرف گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹڈ رکھے گئے اور شاید اس سے بھی کم اور پھر اتارے گئے۔اور یہ بالکل بعید از قیاس ہے کہ اس تھوڑے عرصہ اور تھوڑی تکلیف میں ان کی جان نکل گئی ہو اور یہود کو بھی پختہ فن سے اس بات کا دھڑ کا تھا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا چنانچہ اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ بھی قرآن شریف میں فرماتا ہے دما قتلوه یقینا یعنی یہو د قتل مسیح کے بارے میں ظن میں رہے اور یقینی طور پر انہوں نے نہیں سمجھا کہ در حقیقت ہم نے قتل کر دیا " ہے نیز فرماتے ہیں :۔دراز خدا تعالی کے فضل و کرم نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اس درجہ کے عذاب سے بچالیا جسے زندگی کا خاتمہ ہو جاتا۔انجیلوں کو ذرہ غور کی نظر سے پڑھنے سے آپ کو معلوم ہوگا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نه تین دن تک صلیب پر رہے اور زمین دن کی بھوک اور پیاس اٹھائی اور نہ نہ ان کی ہڈیاں توڑی گئیں بلکہ قریباً دو گھنٹہ تک صلیب پر رہے اور خدا کے فضل اور رحم نے ۱۲۲ ۱۲۵ له مسیح ہندوستان میں ۲ جلد ۱۵ : --- ایام الصلح جلد :