کسر صلیب

by Other Authors

Page 370 of 443

کسر صلیب — Page 370

ترجمہ :۔وہ یہ دلائل دیتے ہیں کہ اگر چہ صلیہ کے وقت ہا تھ اور پاؤں دونوں پر میخیں ماری جائیں پھر بھی بہت تھوڑا خون انسان کے بدن سے نکلتا ہے۔اس واسطے صلیب پر لوگ رفتہ رفتہ اعضاء پر زور پڑنے کے سبب تشنج میں گرفتار ہو کر مر جاتے ہیں یا بھوک سے مرجاتے ہیں۔پس اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ قریب چھ گھنٹے صلیب پر رہنے کے کہ بعد میسوع جب اتارا گیا تو وہ مرا ہوا تھا تب بھی نہایت ہی اغلب بات یہ ہے کہ وہ صرف ایک موت کی سی بے ہوشی تھی اور جب شفا دینے والی مرہمیں اور نہایت ہی خوشبودار دوائیاں مل کہ اُسے غار کی ٹھنڈی جگہ میں رکھا گیا تو اس کی بے ہوشی ڈور ہوئی۔اس دعوئی کی دلیل میں عمو گا یوسفس کا واقعہ پیش کیا جاتا ہے۔جہاں یوسفس نے لکھا ہے کہ میں ایک دفعہ فوجی کام سے واپس آرہا تھا تو راستہ میں میں نے دیکھا کہ کئی ایک یہودی قیدی صلیب پر لٹکے ہوئے ہیں۔ان میں سے میں نے پہچانا کہ تین میرے واقف تھے پس میں نے ٹیٹس (حاکم وقت) سے ان کے اتار لینے کی اجازت حاصل کی اور ان کو فوراً اتار کر ان کی خبر گیری کی تو ایک بالاخر تندرست ہو گیا پر باقی دو مر گئے نے اس حوالہ میں جس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو درست تسلیم فرمایا ہے چنانچہ اسی بنیاد پر حضور نے یہ استدلال فرمایا ہے کہ اس زمانہ کی صلیب پر لٹکنے والا انسان کافی دیر سے مراکز تا تھا۔حضور تحریر فرماتے ہیں : - پھراسی صلیب دینے کا یہ طریق تھا کہ صرف مجرم کو صلیب کے ساتھ جوڑ کر اس کے پیروں تھا اور ہا تھوں میں کیل ٹھونکے جاتے تھے اور تین دن تک وہ اسی حالت میں دھوپ میں بیٹا رہتا تھا اور آخر کئی اسباب جمع ہو کہ یعنی درد اور دھوپ اور تین دن کا فاقہ اور پیاس سے مجرم مر جاتا تھا یہ کہ ر اسی سلسلہ میں آپ مزید وضاحت فرماتے ہیں :- " اس دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ یہودیوں کی صلیب اس زمانہ کی پھانسی کی طرح ہوگی جسے نجات پانا قریبا محال ہے کیونکہ اس زمانہ کی صلیب میں کوئی رشا گلے میں نہیں ڈالا جاتا تھا اور نہ تختہ پر سے گرا کر لٹکایا جاتا تھا بلکہ صرف صلیب پر کھینچ کر ہاتھوں اور پاؤں میں کیل ٹھونکے جاتے تھے اور یہ بات ممکن ہوتی تھی کہ اگر مصایب پر کھینچنے اور ۱۰ - تحفہ گولڑویہ ما ۲۲ تا ۲۲۴ - جلد ۱۷ ایام الصلح ۱۲۴-۱۲۳ - جلد ۱۴ :