کسر صلیب — Page 333
تردید کی اہمیت حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے صلیب پر جان دینے اور موت قبول کرنے کا عقیدہ موجودہ عیسائیت ایک بنیادی عقیدہ ہے۔اس عقیدہ کی اہمیت اس بات سے ظاہر ہے کہ اسی عقیدہ پر کفارہ کی بنیاد ہے جو مسیحیت کا نظریہ نجات اور ان کا قابل فخر عقیدہ ہے۔اس لحاظ سے گویا عیسائیت کی اصلی بنیاد یہی حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت ہے۔یہی وجہ ہے کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نے کے ضمن میں سب سے زیادہ توجہ اس بات کو ثابت کرنے پر دی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز صیب پر فوت نہیں ہوئے۔کیونکہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے تو پھر ساری کی پر ساری عیسائیت یکدفعہ باطل قرار پاتی ہے اور اس کا فلسفہ نجات ایک تصوراتی جنت سے زیادہ کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔نیز ہر عقلمند شخص پر یہ حقیقت خوب روشن ہو جاتی ہے کہ ایسے بے بنیاد اور بے دلیل فلسفہ نجات پر ایمان رکھنے والے اور اسے پیش کرنے والے نہ صرف خود غلطی خوردہ ہیں بلکہ دوسروں کو بھی گمراہی میں مبتلا کرنے والے ہیں۔پس عیسائیت کا اصل خلاصہ حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت ہے اور یہ مسئله گویا مه جوده عیسائیت کے لئے رگ جان کی حیثیت رکھتا ہے۔اس لیگ کے کٹ جانے سے بچینی اس اعتقاد کے باطل ثابت ہو جانے سے عیسائیت خود بخود باطل ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح مود علیہ سلام کے علم کلام کا کمال یہ ہے کہ آپ نے عیسائیت کی شہ رگ کو معلوم کیا اور اس پر ایسا کامیاب اور مہنگ وار کیا کہ اب عیسائیت جاں بلب نظر آتی ہے ! حضرت مسیح علیہ السلام کا صلیب پر مرنا اور پھر زندہ ہوجانا عیسائی حضرات کے نزدیک ان کے مذہب کا مرکزی نقطہ ہے اور اصل الاصول ہے۔عیسائیوں کے ایسے متعدد بیانات ملتے ہیں جن میں انہوں نے صلیب اصلیبی واقعہ اور مسیح کی مصلیبی موت نیز دوبارہ زندگی کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔چنانچہ انجیل کے ایک مفستر رکھتے ہیں :۔اس میں شک نہیں کہ تجسم وہ بنیادی حقیقت ہے جس سے کفار سے کو اس کی بے نظیر اہمیت اور مقدرت حاصل ہوتی ہے لیکن وہ وسیلہ جس سے کہ خدا جسم کی زندگی گنہگا رے کیلئے مکن تحصیل ہو جاتی ہے یسوع کی موت اور مردوں میں سے جی اٹھنا ہے۔اے :- تفسیر ستی من :