کسر صلیب

by Other Authors

Page 328 of 443

کسر صلیب — Page 328

کو گناہ کرنے میں دیر کرے اور اپنے کفارہ کے سہارے سے خوب زور شور سے فسق و فجور اور ہر یک قسم کی بدکاری پھیلاد سے۔(۲) دوسری صورت اس قابل رحم بیٹے کے مصلوب ہونے کی یہ ہے کہ اس کی سولی ملنے کی یہ علت نمائی قرار دی جائے کہ اسکی سولی پر ایمان لانے والے ہر ایک قسم کے گناہ اور بدکاریوں سے بچ جائیں گے اور ان کے نفسانی جذبات ظہور میں نہ آنے پائیں گے کیا لے پہلی صورت کے بارہ میں فرمایا :- " " یہ صورت تو بد است نامعقول اور شیطانی طریق ہے اور میرے خیال میں دنیا میں کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا کہ اس فاسقانہ طریق کو پسند کرے اور ایسے کسی مذہب کے بانی کو نیک قرار د سے جی سی اس طرح پر عام آدمیوں کو گناہ کرنے کی ترغیب دی ہو" سے گویا یہ پہلی صورت ہر گفتہ قبول کرنے کے لائق نہیں۔رہ گئی دوسری صورت تو اس کے بارہ میں حضر مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- اگر فرض کیا جائے کہ یسوع کا کفارہ ماننے میں ایک ایسی خاصیت ہے کہ اس پر سچا ایمان لانے والا فرشتہ سیرت بن جاتا ہے اور پھر بعد ازاں اس کی دل میں گناہ کا خیال ہی نہیں آتا۔تو تمام گذشتہ نبیوں کی نسبت کہنا پڑے گا کہ وہ میسوع کی سوکی اور کفارہ پر کہنا؟ سچا ایمان نہیں لائے تھے کیونکہ انہوں نے بقول عیسائیاں بدکاریوں میں حد ہی کر دی کیسی نے ان میں سے بہت پرستی کی۔اور کسی نے ناحق کا خون کیا اور کسی نے اپنی بیٹیوں سے بدکاری کی۔اور بالخصوص شیوع کے دادا صاحب داؤد نے تو سارے بڑے کام کئے ایک بے گناہ کو اپنی شہوت رانی کے لئے فری سے قتل کرایا اور دلالہ عورتوں کو بھیج کر اسکی قتل جورد کو منگوایا اور اس کو شراب پلائی اور اسے زنا کیا اور بہت سا مال حرام کاری میں ضائع کیا در تمام عمرشو تک بیوی رکھی۔اور یہ حرکت بھی بقول عیسائیاں نہ نامیں داخل تھی۔اور عجیب تریہ کہ روح القدس بھی ہر روزہ اس پہ نازل ہوتا تھا اور نیوریٹری سرگرمی سے اتم رہی تھی مگر افسوس کہ نہ تورہ درج القدس نے اور نہ یسوع کے کفارہ پر ایمان لانے نے بدکاریوں سے اس کو روکا آخر انہی بدعملیوں میں جان دی۔اور اسی عجیب تریہ کہ یہ کفارہ یسوع کی دادیوں اور نانیوں کو بھی بدکاری سے نہ بچا ه -: - ست بچن ۱۶ - جلد 1 : ه : ست بچن ما ، مثلا - جلد ۱۰ : هه