کسر صلیب — Page 297
۲۹۷ والعجب كل العجب من الله النصارى - انه بزعمهم صلب انيه و اضاع وحيدة كالمجنون الغضبان - وما سلك فى المجازات طريق الجليل والرفق والاحسان بن خوف من العذاب الأبدى الذي لا ينقطع فى حين من الاحيان - فاين الرحم فى مثل هذا القمار الذى نوم الابن المحبوب الى الكفار وَمَا خَفّف هذا به كالرحماء الاخيار - بل القى عباده في جهنم لابد الابدين - زاد العذاب زيادة فاحشة مكروهة ثمّ الدَّعى انه قتل ابنه لينجي المذنبين رحمة فما هذا الاطريق الظالمين المزورين له ترجمہ : عیسائیوں کے خدا یہ حد درجہ تعجب آتا ہے کیونکہ ان کے خیال کے مطابق اس نے اپنے بیٹے کو صلیب دی۔اپنے اکلوتے بیٹے کو ایک دیوانے اور غضبناک انسان کی طرح ہلاک کر دیا۔سزا دینے میں اشتی عدل ، نرمی اور احسان کے طریق کو اختیار نہ کیا بلکہ ابدی عذاب سے ڈرایا جو کبھی بھی ختم نہیں ہوتا پس ایسے ظالم سے رحم کس طرح صادر ہو سکتا ہے۔جیسے ہی اپنے پیار سے بیٹے کو کفار کے سپرد کر دیا۔رحم دلی شرفاء کے طریق کے برخلاف اُس نے رحم کو ذرا بھی کم نہ کیا بلکہ اپنے بندوں کو ہمیشہ کے لئے جہنم میں ڈال دیا اور ان کے عذاب کو حد سے زیادہ کرتا چلا گیا اور پھر دوسری طرف یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے اپنے بیٹے کو اس لئے قتل کیا ہے کہ تاوہ رحمت کے طور پر گناہگاروں کو گناہ سے نجات عطا کر سے۔یہ طریق ظالموں اور جھوٹوں کا طریق ہے۔نیز فرمایا : عیسائیوں نے خُدا کو تو ظالم جانا اور بیٹے کو حیم کہ باپ تو گناہ نہ بخشتے اور بیٹا جان دیکر بخشوا ئے۔بڑی بے وقوفی ہے کہ باپ بیٹے میں اتنا فرق۔والد مولود میں مناسبت - اخلاق عادات کی ہوا کرتی ہے مگر یہاں تو بالکل ندارہ دا ہے عیسائیوں کے عجیب عقائد کے ذکر پر فرمایا :- ويظنون ان المسيح صلب ولكن لاجل معاصيهم واخذ لا نجاء هم و عذب لتخليصهم وان الخلق احفظ الاب بذنوبهم وكان الاب قطا۔غليظ القلب سريع الغضب بعيدا عن الحلم والكرم مختافا كالحرق المضطرم فاراد ان يدخلهم في النار فقام الابن ترحما على الفجار : - انجام آتھم حاشیه ۱۳-۱۳۲ - جلد ) : - 4 لملفوظات جلد اوّل ص۳