کسر صلیب — Page 294
۳۹۴ پھر اس مضمون کی اور وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- کیا خدا تعالی کو یہ طریق معافی گناہوں کا صدہا برس سوچ سوچ کر پیچھے سے یاد آیا۔ظاہر ہے کہ انتظام الہی جو انسان کی فطرت سے متعلق ہے وہ پہلے ہی ہونا چاہیئے۔جیسے انسان دنیا میں آیا گناہ کی بنیاد اسی وقت سے پڑی پھر یہ کیا ہو گیا کہ گناہ تو اسی وقت زہر پھیلا نے 1 لگا مگر خدا تعالیٰ کو چارہ ہزار برس گزرنے کے بعد گناہ کا علاج یاد آیا ؟ یہ سراسر ناوٹ آگیا ہے انيون بيك کفارہ کی تردید میں ایک اور دلیل یہ ہے کہ عیسائی مسلمات کی رو سے کفارہ کا سامہ امعاملہ ایسا ہے جسمیں سراسر دھوکہ نظر آتا ہے۔پس ظاہر ہے کہ نہ اس کو خدائی کام قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ دھوکہ کرنے سے پاک ہے اور نہ اس دھو کے والے عقیدہ کو نجات کا ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔اگر اسی کفارہ کو نجات کا ذریعہ سمجھا گیا تو اس کے ذریعہ حاصل ہونے والی نجات بھی ایک دھو کر ہی ہوگی۔۔تفصیل اس بیان کی یہ ہے کہ عیسائی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ صلیبی موت کے تین دن بعد خدا نے مسیح کو زندہ کر دیا تھا۔اب یہ ایک صریح دھوکہ ہے جس کو خدا کی طرف منسوب کیا جاتا ہے گویا خدا نے سارے جہان کے گناہوں سے کفارہ کے طور پر قبول عیسائیاں لوگوں کے سامنے اپنے اکلوتے بیٹے کو پھانسی کی سزا دی لیکن اس کی معابعد لوگوں کی نظر سے چھپ چھپا کر اسے زندہ کر لیا۔گویا دنیا کی نظروں میں دھول جھونک دی۔دنیا پر تویہ ظاہر کیا کہ میں عدل کے تقاضا کو پورا کرتے ہوئے لوگوں کے گناہوں کے بدلے اپنے اکلوتے بیٹے کو صلیب کی لعنتی موت سے ہمکنار کر رہا ہوں لیکن درپردہ اس تی اپنے بیٹے کو پھر نہ ندہ کر دیا۔یہ رہا مغالطہ دہی نہیں تو اور کیا ہے ؟۔مغالطہ دہی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ خدا نے بندوں کے گناہ اس لئے معاف نہ کئے کہ اس طرح خدا کے رحم اور عدل کا تقاضا پورا نہیں ہو سکتا۔لیکن دوسری طرف مسیح کو موت دینے کے بعد اس کو بغیر کسی عدل کے رحم کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوبارہ زندگی دے دی۔ایک اور پہلو سے بھی یہ کفارہ محض مغالطہ ثابت ہوتا ہے۔عیسائی ایک طرف تو یہ دعوی کرتے ہیں کہ تو کفارہ سے سب گناہ بخشے جاتے ہیں اور دوسری طرف اس بات کو بھی پیش کرتے ہیں کہ انسان کے بڑے اعمال کا بھی حساب ہوگا۔یہ دونوں باتیں بیک وقت درست نہیں ہو سکتیں۔اگر دوسری بات سچی ہے کہ :- جنگ مقدس ما ر خ جلد ۶ :