کسر صلیب — Page 293
| ۲۹۳ قابل اعتراض اور خدا کے عدل و انصاف اور رحم کے منافی ہے کہ وہ نجات کے اس طریق کو بنی آدم کا سلسلہ شروع کر نے کے اتنے عرصہ بعد جاری کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کفارہ کے عقیدہ پر یہ اعتراض کیا ہے کہ گناہوں کی معافی اور نجات کا طریق ہر زمانہ میں یکساں ہوتا ہے اور ہونا چاہیئے۔پس اگر کفارہ ہی بنی نوع انسان کی نجات کا ذریعہ ہے تو خدا کو چاہیئے تھا اس عقیدہ کا بنی آدم کا سلسلہ شروع کر تے ہی دنیا میں اعلان کر دیتا کیونکہ جیسے انسان پیدا ہوا ہے گناہ کا سلسلہ جاری ہے اور ہر دور میں انسان نجات کے محتاج اور طالب رہے ہیں۔یہ سمجھا جائے کہ خدا نے نجات کے اس طریق یہ افسانوں پر بڑی ہی زیادتی ہوگی اگر کو پوشیدہ رکھا اور محض مسیح ابن مریم کے ذریعہ سے صرف انیس سو سال پہلے اس کا اعلان کیا گیا۔اسس عقیدہ سے تو خدا کا بخل بہو و نسیان اور ظلم ظاہر ہوتا ہے۔پس اس طرفہ استدلال کو اختیار کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کفارہ کے اصول پر اعتراض کیا ہے اور اس بنیاد پر اس کو باطل قرار دیا ہے۔آپ گناہ اور اسکی فلاسفی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔انسان کی فطرت میں قدیم سے ایک طرف ایک زہر رکھا گیا ہے جو گناہوں کی طرف محبت دیتا : ہے اور دوسری طرف قدیم سے انسانی فطرت میں اس زہر کا تریاق رکھا ہے جو خدا تعالی کی محبت H ہے جب سے انسان بنا ہے یہ دونوں قوتیں اس کی ساتھ چلی آتی ہیں۔نہ ہر ناک قوت انسان کے لئے عذاب کا سامان تیارہ کرتی ہے اور پھر تر باقی قوت جو محبت الہی کی قوت ہے وہ گناہ کو یوں جلا دیتی ہے جیسے خس وخاشاک کو آگ جلا دیتی ہے کیا پھر اس ضمن میں عیسائیت کے طریق نجات معنی کفارہ کا رد فرماتے ہوئے یہ دلیل دی ہے کہ یہ طریقہ بنی آدم کے سلسلہ کے اتنی دیر بعد کیوں بتایا گیا۔آپ فرماتے ہیں :- " یہ ہرگز نہیں کہ گناہ کی قوت جو عذاب کا سامان تھی وہ تو قدیم سے انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے لیکن گناہوں سے نجات پانے کے لئے جو سامان ہے وہ کچھ تھوڑی مدت سے پیدا ہوا ہے۔یعنی صرف اس وقت سے جبکہ یسوع مسیح نے صلیب پائی۔ایسا اعتقاد وہی قبول کر یگا جو اپنے دماغ میں ایک ذرہ عقل سلیم کا نہیں رکھتا۔بلکہ یہ دونوں سامان قدیم سے اور جہ سے کہ انسان پید ا ہوا انسانی فطرت کو دئے گئے ہیں۔یہ نہیں کہ گناہ کے سامان تو پہلے سے خداتعالی نے انسانی فطرت میں رکھ دئے مگر نجات دینے کی دور ابتدائی ایام میں اس کو بیاد نہ آئی یہ چار ہزار برس بعد سوجھی " کے ے : چشمه مسیحی مثه رخ جلد ۲۰: ه چشمه مسیحی مدت - ر خ جلد ۲ : ۵۳