کسر صلیب — Page 287
YAL انہو سنزا کے گناہ معاف نہیں کر سکتا۔لہذا اس نے اپنے عدل کے تقاضا کو گورا کرنے کے لئے یہ انتظام کی کہ گناہگاروں کے بدلہ میں اپنے بیٹے کو صلیب دیا تا نوع انسان نجات بھی پا جائے اور اس کے عدل کا تقاضا بھی پورا ہو جائے۔لیکن اگر اس قصہ پر جو عیسائی پیش کرتے ہیں غور کیا جائے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کفارہ کے ذریعہ عدل کے تقاضے پور سے ہونے کا کیا سوال، یہ مسئلہ تو عدل و انصاف کے سراسر خلاف ہے۔عدل اس بات کا نام ہے کہ اصل مجرم کو سزادی جائے اور اتنی سزادی جائے جتنا اس کا جرم ہے لیکن عیسائیوں کے خدا کے عدل کا یہ عالم ہے کہ دنیا جہان کے گناہگاروں، مجرموں اور بدکاروں کے بدلہ میں اپنے معصوم اور بے گناہ اکلوتے بیٹے کو صلیب پر لٹکا دیا۔جہاں اس نے تڑپ تڑپ کر جان دی۔کیا یہی وہ عدل ہے جس کا واویلا عیسائی حضرات کرتے ہیں اور کیا ان کے خُدا کے عدل کا یہی عالم ہے کہ گناہ تو کوئی کر سے اور سزا کسی اور کو دیدی جائے۔کیا یہی عدل ہے کہ ایک بے گناہ اور معصوم کو بغیر کسی گناہ کے وہ سزا دی جاتی ہے اور لعنت کا ایسا طوق پہنایا جاتا ہے جسکی قیامت تک خلاصی نہیں ہو سکتی۔تف ہے اس عدل پر جو عیسائی اپنے خدا کی طرف قط۔منسوب کرتے ہیں۔+ عدل کا تقاضا تو یہ تھا کہ اصل مجرموں کو سزا دی جاتی اور ان کو لعنت کا مورد بنایا جاتا لیکن عیسائیوں کے خُدا نے اپنے عدل کو یوں پورا کیا کہ دنیا کے سب انسانوں کے گناہوں کی لعنت اپنے اکلوتے بیٹے پر ڈال دی۔یوں دنیا ان لوگوں کی لعنت بھی جن کو مسیح جانتے تک بھی نہیں۔اس سے تو یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عیسائیوں کا خدا اس بات کی بھی قدرت نہیں رکھتا کہ اصلی مجرموں کو پکڑے اور سزار سے بلکہ وہ صرف دنیا کے دکھانے کی خاطر محض اپنے دعامہ کی خاطر، یہ بہانا بنا لیتا ہے کہ بیٹے کو مصلوب کروا دیتا ہے تا دنیا دیکھ لے کہ خدا نے عدل کر دیا ہے۔عیسائی حضرات یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح کو خدا نے صرف تین دن کے لئے جہنم میں بھیجا اور وہ تین دن کے لئے لعنت کا شکار رہے۔سوال یہ ہے کہ یہ کس قسم کا عدل ہے کہ باقی لوگ ملعون ہوں تو ہمیشہ کے یہ : لئے اور خدا کا بیٹا ملعون ہو تو صرف تین دن کے لئے۔یہ صرف اسی عدل کی رُو سے درست ہو سکتا ہے جس کو عیسائی موم کی ناک کی طرح اپنی مرضی سے ڈھالتے اور موڑتے ہیں۔الغرض جس پہلو سے بھی دیکھا جائے کفارہ کا یہ عقیدہ عدل کے خلاف پڑتا ہے۔پس اس وجہ سے یہ عقیدہ باطل ہے کیونکہ خلات عدل کام کو نہ خدا کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے اور نہ کوئی عقلمند اس بات یہ یقین کر سکتا ہے۔ایمان لانے کا سوال تو بعد کا ہے۔کفارہ کے خلاف عدل ہونے کی اس دلیل کا استنباط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ ذیل