کسر صلیب

by Other Authors

Page 262 of 443

کسر صلیب — Page 262

نیز مستر مایا : N جس ندیہ کو عیسائی پیش کرتے ہیں وہ خدا کے قدیم قانون قدرت کے بالکل مخالف ہے کیونکہ قانون قدرت میں کوئی اس بات کی نظیر نہیں کہ ادنی کے بچانے کے لئے اعلیٰ کو۔مارا جائے۔ہمارے سامنے خُدا کا قانون قدرت ہے۔اس پر نظر ڈالنے سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیشہ ادئی اعلیٰ کی حفاظت کے لئے مارے جاتے ہیں۔چنانچہ جس قدر دنیا میں جانور ہیں۔یہانتک کہ پانی کے کیڑے وہ سب انسان کے بچانے کے لئے جو اشرف المخلوقات ہے کام میں آرہے ہیں پھر یسوع کے خون کا فدیہ کس قدر اس قانون کے مخالف ہے جو صراف صاف نظر آرہا ہے اور ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جو زیادہ قابل قدر اور پیارا ہے۔اکسی بچانے کے لئے ادنی کو اعلی پہ قربان کیا جاتا ہے چنانچہ خداتعالی نے انسان کی جان بچانے کے لئے کروڑہا حیوانوں کو بطور فدیہ کے دیا ہے اور ہم تمام انسان بھی خطر تا ایسا ہی کرنے کی طرف راغب ہیں۔تو پھر خود سوچ لو کہ عیسائیوں کا فدیہ خدا کے قانون قدر سے کسندرہ ڈور بیڑا ہوا ہے کیا جب عیسائیوں کے سامنے اعلیٰ کے لئے ادنی کی قربانی کا اصول پیش کیا جاتا ہے تو وہ عام طور پر اس قسم کی مثالیں دیتے ہیں کہ فلاں بڑے آدمی نے ایک معمولی انسان کے لئے قربان کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس عذرہ کا بھی مکمل جواب تحریر فرمایا ہے۔حضور نے اپنی کتاب کتاب البریہ میں سرفلب سڈنی کی مثال کا ذکر کیا ہے کہ انہی مرنے سے قبل پانی کا ایک ہی پیانہ جو موجود تھا ایک دوسرے جاں بلب سپاہی کو دیگر اس کی جان بچائی۔اس کے جواب میں حضور نے جو تفصیل درج فرمائی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ مشال اس اصول کو نہیں توڑتی۔ایک بڑے آدمی کی قربانی ایشار کہلاتی ہے۔لیکن یہاں اس اصول میں سوال قانون قدرت کا ہے کسی زید یا بکر کے ایک وقتی یا عارضی کام کا نہیں ہے۔عام قانون قدرت اور مشاہدہ اس بات پر گواہ ہیں کہ ادنی کو اعلیٰ کی خاطر قربان کیا جاتا ہے نہ کہ اعلیٰ کو ادمی کی خاطر بسپس کفارہ کا اصول بالبداہت قانون قدرت کے خلاف ہے لہذا غلط ہے۔عدلیہ ساتویی دلیل عیسائی حضرات کفارہ کی تائید میں یہ کہا کرتے ہیں کہ کیا دوسر سے انسان کے لئے قربانی کرنا اور اسکی خاطر دکھ اُٹھانا اچھی بات نہیں ہے۔اس طریق سے وہ مسیح کی قربانی کے حق میں وجہ جوانہ تلاش کر نا چاہتے : - كتاب البرية حث جلد ۱۳ :