کسر صلیب

by Other Authors

Page 240 of 443

کسر صلیب — Page 240

۲۴۰ ہوگا اور نہ ماضی کا کوئی غم۔پھر ایک اور جگہ فرمایا : د يا ايها الانسان انك كارح الى ربك كل ما فعلقيها وسورة الشقاق: کہ اسے انسان تو خُدا کا قرب پوری پوری کوشش صرف کرنے سے حاصل کر سکتا ہے۔! پس اسلام نے نجات اور تخلیق کے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے عمل پر بہت زور دیا ہے انسان سے کبھی برے اعمال بھی سرزد ہو جاتے ہیں اس کے لئے اسلام نے یہ اصول مقررہ فرمایا ہے کہ جب کوئی غلطی کر بیٹھو تو اس کی اصلاح کی یہ صورت ہے کہ تو یہ اور استغفار کرو۔مادی قسم کی زیادتی ہے تو اس کی اصلاح بھی کرد۔آئندہ اس کام سے بچنے کا پورا اعزام اور وعدہ کرو اور اس غرض کے لئے اسلام کے مقرر کردہ ذریعہ اصلاح کو بھی قبول کرو۔اس طرح ایک بدی کو اور اس کی اثر کو مٹایا جاسکتا ہے۔گویا بدی کو مٹانے کے لئے انسان مزید نیکیاں کرے اور خود اپنی طرف سے اس غلطی کا ایک بدلہ ادا کر ہے۔یہی وہ اصول ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے اور جو کفارہ کی حقیقی اور درست صورت ہے۔کفارہ کا لفظ قر آن مجید میں بھی استعمال ہوا ہے۔ایک موقع پر آیا ہے : - ذلك كفارة ايمانكم اذا حلفتم پس اسلام نے لفظ کفارہ کو اور اس اصول کو اس کے صحیح لغوی معنوں کے مطابق اس مظوم میں اپنایا ہے کہ جب کوئی گناہ ہو جائے تو انسان اس کی تلافی سچی توبہ اور استغفار کے ذریعے کہ سے یہ گویا اس کے گناہ کو چھپا دینے ، مٹادینے اور اس کے بد نتائج کو ختم کر دینے کی صورت ہوگی۔اور اسی طریق کو اپنانے سے انسان نیکیوں کی توفیق پاتا ہے نیز اس سے جو غلطیاں بھی سرزد ہو جائیں ان کے بر سے نتائج سے محفوظ رہتا ہے یہی کفارہ کا اصلی اور حقیقی مفہوم ہے۔یاد رہے کہ کفارہ کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں ایک صورت یہ ہے کہ ایک انسان گناہ کر سے اور پھر وہ خود ہی اس کی تلافی کی کوشش کرے اور اس سلسلہ میں اپنی طرف سے کوئی قربانی پیش کر ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ ایک انسان گناہ یا کوئی جرم کرے اور اس کی بجائے کوئی دوسرا انسان اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتار کر اپنے نفس کی قربانی پیش کرے۔ان دونوں صورتوں میں سے پہلی صورت حقیقی اور بچے کفارہ کی ہے۔کیونکہ اس میں وہی شخص سزا کو برداشت کرتا ہے جو گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔اسلام اسی اصول کو پیش کرتا ہے لیکن عیسائیت جو قسم کے کفارہ کو پیش کرتی ہے وہ دوسری قسم کا کفارہ ہے۔