کسر صلیب

by Other Authors

Page 239 of 443

کسر صلیب — Page 239

کفاره عربی زبان کی لغت المنجد میں لکھا ہے :- "الكفارة - مؤنث الكفار۔ما يكفربه اى يغطى به الاثم ما كفر به من صدقة وصوم ونحوهما له گویا کفارہ سے مراد ایسی چیز ہے جو گناہ کو چھپا دیتی ہے۔صدقہ اور روزہ بھی بطور کفارہ ہو سکتے ہیں جبکہ یہ کسی گناہ کی تلافی کے لئے ہوں۔لفظ کفارہ میں اندروئے لغت بنیادی طور پر ڈھانپنے اور چھپانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔مذہبی اصطلاح میں کفارہ سے مراد ایسا فعل یا عمل ہے جو کسی غلطی کے اثرات کو دور کرے یا کسی کمی یا کوتاہی کا ازالہ کرے یاد رہے کہ کنارہ کا یہ بہت وسیع اور عمومی مفہوم ہے۔یہ لفظ اسلام اور عیسائیت دونوں میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس لفظ کے معنوں کی تعیین میں دونوں مذاہب کے نظریات میں بعد المشرقین پایا جاتا ہے۔جب عیسائی حضرات سے کفارہ کے مسئلہ پر بات کی جائے اور ان کے اس عقیدہ کی تردید کی جائے تو وہ فوراً یہ بات پیش کرتے ہیں کہ کفارہ کا اصول تو اسلام میں بھی پایا جاتا ہے۔اس لئے مسیحی کفارہ کے ذکر سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس بارہ میں اسلام کے موقف کی مختصر وضاحت کر دی جائے۔کفارہ کی حیثیت اسلام میں مذہب اسلام نے انسانی تخلیق کا مقصد عبودیت تامہ مقرر فرمایا۔اور ہر سلمان پر یہ لازم قرار دیا ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لئے پوری پوری اطاعت اور کوشش کر ہے۔ارشاد باری تعالی ہے :- بلی من اسلم وجهه الله وهو محسن فله اجره عند ربه ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون یعنی جو مومن اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی کامل اطاعت میں لگا دیتا ہے اور احسان کے طریق کو اختیار کرتا ہے تو اس کا اجر دنیا خدا کے ذمہ ہے ، نہ ان کو آئندہ کا فکر مه -: - المني : بقره ۱۱۳