کسر صلیب

by Other Authors

Page 175 of 443

کسر صلیب — Page 175

140 خدائے واحد لا شریک کی تعلیم دیتے رہے یا اے نیز فرمایا : - ان کا وہ کلمہ جو صلیب پر چڑھائے جانے کے وقت ان کے منہ سے نکلا کیسا تو حید پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے نہایت عاجزی سے کہا ایلی ایلی لما سبقتنی یعنی اسے میرے خدا! اسے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔کیا جو شخص اس عاجزی۔سے خدا کو پکارتا ہے اور اقرار کرتا ہے کہ خدا میرا رب ہے اس کی نسبت کوئی عقلمند گمان کر سکتا ہے کہ اس نے در حقیقت خدائی کا دعوی کیا تھا ؟ کے پس حضرت مسیح علیہ السلام کا خلائی کے دعوئی سے واضح انکار کرنا اور ساری عمر توحید کی اعلانیہ منادی کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خود ہنڈا نہ تھے۔کیونکہ اگر ان کو خدا مانا جائے تو ان کے اقوال اور عمل اس کے خلاف پڑتے ہیں۔یہ اختلاف ہوا ہو یا عمداًکہ ہر صورت میں خدا کی شان سے بہت بعید ہے۔تیشتری دلیل ابطال الوہیت میسج کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے استقراء کو ایک دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے۔یہ وہ دلیل ہے جس کو حضور نے اپنے مباحثہ " جنگ مقدس میں سب سے پہلے پیش فرمایا۔حضور نے یہ بیان فرمایا تھا کہ ضرت مسیح علیہ السلام کا خدا کے بیٹے کے طور پر دنیا میں آنا استقراء کے خلاف ہے اور اس دلیل کو قرآن مجید نے اس آیت کہ یمیہ میں بیان فرمایا ہے جس میں لکھا ہے۔ما الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔که مسیح ابن مریم تو خدا کے ایک رسول ہیں اور اس جیسے ہزاروں رسول اس سے پہلے گزار چکے ہیں۔پادری عبد اللہ آتھم کی درخواست پر حضور نے سب سے پہلے استقراء کی تعریف فرمائی جو درج ذیل ہے۔آپ نے فرمایا :- استقراء اس کو کہتے ہیں کہ جزئیات مشہودہ کا جہاں تک ممکن ہے تبلیغ کر کے باقی جزئیات کا اپنی پر قیاس کر دیا جائے یعنی جس قدر جزئیات ہماری نظر کے سامنے ہوں یا تاریخی سلسلہ میں ان کا ثبوت مل سکتا ہو تو جو ایک شان خاص اور ایک حالت خاص ه : چشمه سیحی ملک روحانی خزائن جلد ۲۰ سه : چشمه مسیحی ۱۳ روحانی خزائن جلد ۲۰ : صله جلد