کسر صلیب — Page 161
141 اور خداتین بھی۔یعنی وحدت فی التثلیث اور تثلیث فی الوحدت۔ایک میں تین اور تین میں ایک۔یہ بات آدمی کی سمجھ سے بالا تر ہے۔اے پادری ڈبلیو ٹامس اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ور ما خلقت کے استدلال اور عقلی دلائل اس میں یعنی مسئلہ تثلیث میں مل نہیں سکتے " ہے پادری سی جی فانڈر اپنی کتاب میزان الحق میں لکھتے ہیں :- تثلیث ایک رازہ بستہ ہے کہ جس کی بابت ہم نہیں جانتے کہ کیسے ہے " سے الغرض یہ بات تو سب کو تسلیم ہے کہ تثلیث کا سمجھنا انسان کے بس کا روگ نہیں ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تثلیث کے رد میں اس امر کو بھی پیش فرمایا ہے کہ ایسا عقیدہ جو خلاف عقل ہو اور انسان کی سمجھ میں نہ آسکتا ہو ایک باطل عقیدہ ہے۔اٹھارہویں دلیل الوہیت مسیح تثلیث کی سب سے اہم اور بنیادی دلیل ہے۔تثلیث کی مسیحی تشریح کے مطابق باپ، بیٹا اور روح القدس تینوں خدا ہیں۔گویا وہ مسیح علیہ السلام کو بیٹے کی شکل میں خدا تسلیم کرتے ہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام کا خدا ہونا گو یا شلیشی عقیدہ کی اصلی بنیاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خداداد علم کلام کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ آپ نے عیسائیت کے عقاید پر کچھ اس طور سے حملہ کیا ہے کہ ان کے سب ہی عقائد کے رد میں دلائل دیتے ہوئے عقاید کی بنیادوں کو مسمار کر دیا ہے۔ظاہر ہے کہ جب بنیاد گر جائے تو عمارت قائم نہیں رہ سکتی۔اس طرح پر عقیدہ تثلیث کے رد میں حضور علیہ السلام نے عمومی طور اس عقیدہ کی تردید کر نے کے علاوہ قوی دلائل سے یہ امر ثابت کر دیا ہے کہ مسیح کی الوہیت ایک باطل خیال ہے۔مسیح ہر گنہ ہر گتہ خارا نہ تھے۔یہ تثلیث کے رد میں ایسی دلیل تحقیق الايمان ص۱۳ ه میزان الحق مصنفہ سی جی فانڈر : ت : تشريح التثليث :