کسر صلیب

by Other Authors

Page 139 of 443

کسر صلیب — Page 139

ایک یہودی اس تعلیم کو حفظ کر لے اور اپنے گھر کی چوکھٹوں پر اس کو لکھ چھوڑیں اور اپنے بچوں کو سکھا دیں اور پھر علاوہ اس کے اس توحید کی تعلیم کے یاد دلانے کے لئے متواتر خدا تعالیٰ کے نبی یہودیوں میں آتے رہے اور وہی تعلیم سکھلاتے رہے۔پس یہ امر بالکل غیر ممکن اور محال تھا کہ یہودی لوگ باوجود اس قدر تاکید اور اسقدر تو اتہ انبیاء کے تثلیث کی تعلیم کو بھول جاتے اور بجائے اس کے توحید کی تعلیم اپنی کتابوں میں لکھ لیتے اور وہی بچوں کو سکھاتے اور آنے والے صدہا نبی بھی اسی توحید کی تعلیم کو دوبارہ تازہ کر تھے ایسا خیال تو سراسر خلاف عقل د قیاس ہے۔میں نے اس بارہ میں خود کوشش کر کے بعض یہودیوں سے حلفاً دریافت کیا تھا کہ توریت میں خدا تعالی کے بارہ میں آپ لوگوں کو کیا تعلیم دی گئی تھی ؟ کیا شلیث کی تعلیم دی گئی تھی یا کوئی اور۔تو ان یہودیوں نے مجھے خط لکھے جو اب تک میرے س موجود ہیں۔اور ان خطوں میں بیان کیا کہ توریت میں تثلیث کی تعلیم کا نام ونشان نہیں۔بلکہ خدا تعالیٰ کے بارہ میں توریت کی وہی تعلیم ہے جو قرآن کی تعلیم ہے یاک (ص) " کیا یہ بات تعجب میں نہیں ڈالتی کہ خدائی کے ثبوت کے لئے یہود کی کتابوں کا حوالہ دیا جاتا ہے حالانکہ ہوں اس عقیدہ پر ہزار لعنت بھیجتے ہیں اور سخت انکاری ہیں اور کوئی ان میں ایسا فرقہ نہیں جو تثلیث کا قائمی ہو۔اگر یہود کو مونٹی سے آخری نبیوں تک یہی تعلیم دی جاتی تو کیونکر مکن تھا کہ وہ لاکھوں آدمی جو بہت سے فرقوں میں منقسم تھے اس تعلیم کو سب کے سب بھول جاتے " سے (۴) ایک اور اسرقابل غور ہے کہ یہودیوں کے مختلف فرقے ہیں اور بہت سی باتوں میں ان میں باہم اختلاف ہے۔لیکن توحید کے اقرار میں ذرا بھی اختلاف نہیں۔اگر تشکیت واقعی مدا یہ نجات تھی تو کیا سارے کے سارے فرقے ہی اس کو فراموش کر دیتے اور ایک آدھ فرقہ بھی اس پر قائم نہ رہتا۔کیا یہ تعجب خیز امرنہ ہوگا کہ ایک عظیم الشان قوم جس میں ہزاروں ہزار فاضل ہر زمانہ میں موجود رہے اور برابر مسیح علیہ السلام کے وقت تک جن نہیں نبی آتے ه بچشم مسیحی ملات روحانی خزائن جلد ۲۰ : ۱- انجام انتهم صله روحانی خزائن جلد ۱۱ : ۳