کسر صلیب — Page 110
اور تاثیر میں۔سو اس سورۃ میں ان چاروں قسموں کی شرکت سے خدا کا پاک ہونا بیان فرمایا ہے اور کھول کہ بلا دیا ہے کہ وہ اپنے عدد میں ایک ہے دو یا تین نہیں۔اور وہ محمد ہے یعنی اپنے مرتبہ وجوب اور محتاج الیہ ہونے میں منفرد اور یگانہ ہے۔اور بجز اس کے تمام چیزیں ممکن الوجود اور پالک الذات ہیں جو اس کی طرف ہر دم مختارج ! ہیں اور وہ کم یلدا ہے۔یعنی اس کا کوئی بیٹا نہیں تا بوجہ بیٹا ہونے کے اس کا شریک ٹھہر جائے اور وہ لم یولد ہے۔یعنی اس کا کوئی باپ نہیں تا بوجہ باپ ہونے کے اس کا کوئی شریک بن جائے اور وہ لَمْ يَكُن لَهُ كُفُوا ہے یعنی اس کے کاموں میں کوئی اس کی برابری کرنے والا نہیں تا باعتبار فعل کیے اس کا کوئی شریک قرار پاوے۔سو اس طور سے ظاہر فرما دیا کہ خدائے تعالیٰ چاروں قسم کی شرکت سے پاک اور منزہ ہے اور وحده لا شريك ہے ؟ له پھر اسلامی توحید کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے تحریر فرمایا ہے :- (1) " ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی چیز خدا تعالیٰ کی وحدت کے ساتھ مزاحمت نہیں رکھتی محض اسی کی ذات قائم بنفسہ اور ازلی اور ابدی ہے اور باقی سب چیزیں ہانکتہ الذات اور باطلہ الحقیقت ہیں اور یہی خالص توحید ہے جس سے مخالف عقیدہ رکھنا سراسر شرک ہے " کے (٢) " توحید الہی کی جڑ یہی ہے کہ وہ وحدہ لاشریک اپنی ذات میں اور اپنی صفات میں اور اپنے کاموں میں ہے۔اور کوئی دوسرا مخلوق اس کی مانند وحدہ لا شریک نہیں " سے (۳) یاد رہے کہ حقیقی تو حید جس کا اقرارہ خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کی اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ ثبت ہو خواہ انسان ہو خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر و فریب ہو منزہ سمجھنا اور استیکی مقابل یہ کوئی قادر تجویز نہ کرنا کوئی رازق نہ ماننا کوئی معنر اور مذل خیال نہ کرنا : مط : براہین احمدیہ حاشیه در حاشیه ما م - روحانی خزائن جلد مه به سه چشمه معرفت منها روحانی خزائن جلد بود گے : تحفہ گوله دید حاشیه ها ریحانی خزائن جلد ۱ : م