کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 286 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 286

وزیر اعظم اٹیکی تقسیم ہند کے سخت خلاف تھے۔اور کانگرس اس سلسلہ میں اُن کی ہمنوا تھی۔لیکن مسلمانان برصغیر کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ ” قیام پاکستان“ کے مطالبہ پر اڑی ہوئی تھی۔1946 ء میں مسٹر ٹیلی نے اپنے تین وزراء کو ہندوستان بھجوایا جنہوں نے آ کر دونوں جماعتوں کے سامنے گروپنگ سکیم پیش کی جسے دونوں جماعتوں نے تسلیم کر لیا لیکن اُس کے فوراً بعد جب پنڈت جواہر لعل نہرو مولانا ابوالکلام آزاد کی جگہ کانگرس کے نئے صدر بنے اُنہوں نے اُس سکیم کی (اس کی بنیادی روح کے منافی) من مانی تاویلات و تشریحات کرنی شروع کر دیں۔قائد اعظم نے اولین فرصت میں ان تاویلات و تشریحات کو غلط قرار دیا۔لارڈ ویول نے گاندھی جی اور پنڈت نہرو کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی مگر وہ اپنی تاویلات کو حرف آخر قرار دینے پر بضد رہے نتیجہ یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔اور اس کے ساتھ ہی لارڈ ویول کانگرس کی طعن و تخصیص کا نشانہ بن گئے جس پر انہیں انگلستان واپس بلالیا گیا۔اور اُن کی جگہ شاہی خاندان کے ایک فردلارڈ ماؤنٹ بیٹن کو وائسرائے ہند مقرر کر دیا گیا۔جن کے جانبدارانہ اور نا انصافانہ کارناموں کی صدائے بازگشت تاریخ بر صغیر کے اوراق میں تا ابد سُنائی دیتی رہے گی۔باؤنڈری کمیشن وزیر اعظم انیکی نے اپنی ہندوستان کو متحد رکھنے کی خواہش کی تکمیل کے لئے آخری کوشش کے طور پر دونوں سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کولنڈن بلوا کر انہیں اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن فکری بعد کی خلیج اتنی وسیع ہو چکی تھی کہ کوئی کامیابی نہ ہوئی۔اور وہ تقسیم ملک کا اعلان کرنے پر مجبور ہو گئے۔جس کا اعلان تین جون 1947ء کو کر دیا گیا۔290